تفتان(ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر تفتان میں قابض ایرانی فورسز سپاہ پاسداران انقلاب اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں دونوں جانب ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ علاقے میں فوجی کمک کی بڑی تعداد روانہ کیے جانے، نگرانی کرنے والے ڈرونز کی پروازوں اور مارٹر گولوں سمیت بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، منگل 13 اکتوبر 2026ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 6 بجے تفتان کے علاقے چاہ احمد اور ارزن تاک کے پہاڑی سلسلے میں واقع کوہ لوپ اور سیاه لوپ کے مقام پر قابض ایرانی فورسز سپاہ پاسداران اور مسلح افراد کے درمیان لڑائی شروع ہوئی، جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود جاری رہی۔
مقامی ذرائع کے مطابق، جھڑپوں کے ابتدائی مرحلے میں سپاہ پاسداران کی تقریباً 18 موٹر سائیکلیں اور چار فوجی گاڑیاں علاقے میں موجود تھیں۔ لڑائی میں شدت آنے کے بعد تقریباً 40 مزید گاڑیوں پر مشتمل فوجی کمک کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے ہلکے، درمیانے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ علاقے کی فضا میں نگرانی اور فوجی کارروائیوں کے لیے ڈرونز بھی پرواز کرتے رہے۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بعض مسلح افراد جھڑپوں کے مقام سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد فوجی اہلکاروں کی جانب سے پہاڑی علاقوں کی طرف مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، سرکاری ذرائع ابلاغ نے تین مسلح افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں فوجی اہلکاروں اور مسلح افراد سمیت دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔ تاہم، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی درست تعداد، شناخت اور دیگر تفصیلات تاحال آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں فوجی گاڑیوں کی بڑی تعداد اور چاہ احمد کے آسمان پر ڈرونز کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق، فوجی اہلکار اپنی چند پوزیشنوں سے واپس بھی لوٹ رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مزید تفصیلات اور جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق کے لیے معلومات جمع کر رہا ہے۔ نئی معلومات سامنے آنے پر مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
دریں اثنا اس رپورٹ میں جانی نقصان سے متعلق اعداد و شمار اور دیگر تفصیلات کو ابتدائی اطلاعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جن کی آزادانہ تصدیق تاح
ال نہیں ہو سکی۔


