زاہدان(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان کی مرکزی جیل میں قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے ایک بلوچ قیدی کی سزا پر عمل درآمد کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، ہفتہ 17 اکتوبر 2026 کو بلوچ قیدی امیر درزادہ پور کی سزائے موت پر زاہدان کی مرکزی جیل میں عمل درآمد کیا گیا۔ انہیں اس سے قبل قتل کے الزام میں گرفتار کرکے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، قیدی کی شناخت 40 سالہ امیر درزادہ پور ولد رسول بخش کے نام سے ہوئی ہے۔ تین بچوں کے والد تھے۔ ان کا تعلق ضلع نیکشہر کے علاقے بنت کے نواحی گاؤں دسک سے تھا۔

 ذرائع کے مطابق، امیر کو سنہ 2017 میں قتل کے الزام میں ایرانی فوجی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں چابہار کی جیل میں رکھا گیا تھا۔ تقریباً دو ماہ قبل انہیں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے زاہدان کی مرکزی جیل منتقل کیا گیا، جبکہ سزا پر عمل درآمد سے ایک روز قبل انہیں اسی جیل کے قرنطینہ وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد ان کی میت اہل خانہ کے حوالے کردی گئی، جسے تدفین کے لیے فنوج منتقل ک

یا گیا۔