پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںپاکستان میں ’’پاکستانی فوج نے نیوز چینلز کا کنٹرول خود سنبھال لیا...

پاکستان میں ’’پاکستانی فوج نے نیوز چینلز کا کنٹرول خود سنبھال لیا ہے۔‘‘عالمی میڈیا کانفرنس

برلن ( ہمگام نیوز ڈیسک ) ڈی ڈبلیو کے زیرانتظام عالمی میڈیا کانفرنس میں میڈیا کے اعتبار اور اس سے جڑی آزادی اظہار صحافت سے متعلق چینلنجز پر ایشیائی صحافیوں نے تفصیلی روشنی ڈالی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد اہم میڈیا اداروں پر ’فیک نیوز‘ کا الزام عائد کرتے ہیں جب کہ دنیا بھر میں کچھ ایسا ہی رجحان انتہائی دائیں بازو کی حکومتوں، جماعتوں اور فوجی حکمرانوں کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ادارں پر دباؤ میں اضافے کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔آزادی صحافت کو اس وقت شدید نوعیت کے مسائل کا شکار ہے اور میڈیا اداروں کو ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی جانب سے غیرمعمولی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے زیرانتظام گلوبل میڈیا فورم میں ایشیائی صحافتی اداروں کے نمائندوں اور صحافیوں نے تفصیلی گفت گو کی۔ اس مذاکرے میں آزادیء صحافت کو لاحق مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر بات چیت ہوئی۔اس مذاکرے میں بنگلہ دیش، ہانگ کانگ، بھارت، پاکستان اور تھائی لینڈ کے صحافیوں کے پینل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومتیں بھی مختلف نکتہ ہائے نگاہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی آواز دبانے کے لیے میڈیا کو انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے جگہ نہ دینے پر دباؤ ڈالتی ہیں۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہ زیب جیلانی کا اس مذاکرے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں آزادی صحافت کو کڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ’’گزشتہ دو برسوں سے پاکستان میں میڈیا کو ایک ’کریپنگ کُو‘ کا سامنا ہے۔ اگر آپ میڈیا کا معائنہ کریں تو آپ کو لگے گا کہ یہ خاصا آزاد ہے، جہاں آپ سیاست دانوں حتیٰ کے وزیراعظم پر بھی تنقید کر سکتے ہیں، مگر آپ فوج کے خلاف ایک لفظ نہیں بول سکتے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ’’فوج نے ایک طرح سے نیوز چینلز کا کنٹرول خود سنبھال لیا ہے۔‘‘جیلانی نے مثال پیش کی کہ پاکستان میں پشتونوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کا میڈیا نے مکمل بلیک آؤٹ کی۔ پی ٹی ایم چوں کہ خطے سے عسکریت کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے اور پاکستانی فوج کی سکیورٹی پولیسوں کو اپنے علاقے کی تباہی کا ذمہ داری سمجھتی ہے۔جیلانی نے کہا، ’’لوگوں کو پی ٹی ایم سے متعلق معلومات سوشل میڈیا سے مل سکتی ہے۔ مقامی میڈیا نے اس تنظیم پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔‘‘

تاہم جیلانی نے یہ بھی کہ کہ وہ ناامید نہیں ہیں۔ ’’کچھ صحافی بے حد بہادر ہیں اور وہ اس دباؤ کے خلاف مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں

فیچرز