یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںتیل بردار جہازکوتحویل میں لینے پر،برطانوی جنگی جہازسے حملہ کرنے کی دھمکی...

تیل بردار جہازکوتحویل میں لینے پر،برطانوی جنگی جہازسے حملہ کرنے کی دھمکی پر ایرانی پاسداران واپس چلے گئے

واشنگٹن(ہمگام نیوزڈیسک) مانیٹرنگ نیوزڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے عہدیداران نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز امریکہ کی طرف سے ڈکلیئر کردہ دہشتگرد ‘ایرانی پاسداران انقلاب’ کی پانچ کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں ایک برطانوی تیل بردار جہاز کے قریب آ کر خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ٹھکانے کے قریب ایرانی پانی میں رک جائے۔ تاہم برطانوی طیارہ بردار جہاز کی جوابی وارننگ کے بعد مذکورہ ایرانی فوجی کشتیاں واپس چلی گئیں۔برطانوی شاہی بحریہ کے طیارہ بردار جنگی جہاز کے ایک عہدیدار کے مطابق فریگریٹ نے اپنی توپوں کا رخ ایرانی کشتیوں کی جانب کر لیا اور انہیں وائر لیس کے ذریعے سخت وارننگ دی گئی کہ وہ اس مقام سے فورا منتشر ہو جائیں۔

ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ یہ تیل بردار جہاز کے گزرنے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ڈرانے کی ایرانی کوشش تھی۔برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہیں ۔

امریکی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کے روز اُس وقت پیش آیا جب برطانوی تیل بردار جہاز British Heritage آبنائے ہرمز کے شمالی داخلی راستے کے قریب موجود تھا۔یہ پیش رفت اُس واقعے کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جب برطانوی رائل نیوی کے میرینز نے جبل الطارق کے ساحل کے مقابل ایک ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کو تحویل میں لے لیا تھا۔ اس جہاز پر شک تھا کہ وہ خام تیل شام منتقل کر کے یورپی یونین کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یاد رہے ایرانی صدر حسن روحانی نے گذشتہ روز بدھ کو ردعمل میں دھمکی دیتےبوئے کہا تھا کہ برطانیہ کو ایرانی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لینے کے حوالے سے “نتائج” کو بھگتنا ہوں گے۔

اسی طرح ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری نے آبنائے جبل الطارق میں برطانیہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہاز حراست میں لیے جانے پر منگل کے روز دھمکی دی تھی کہ یہ معاملہ جوابی کارروائی کے بغیر ختم نہیں ہو گا۔ تاہم ایران کی طرف سے محض اس دھمکی کے بعد ابتک عملا کچھ بھی نہیں ہوا ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اقتصادی پابندیاں سخت کرنے کے بعد ایران کی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ واشنگٹن ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد ایران کی جانب سے علاقائی و عالمی امن کو سبوتاژ کرنے کی کارستانیوں کو روکنا ہے۔

رواں سال مئی میں ایران کے جنوبی ساحل کے نزدیک سمندر میں کئی تیل بردار جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ امریکا نے ان واقعات کی تمام تر ذمے داری ایران پر عائد کی تھی ، جب کہ تہران ان میں سے کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفور منگل کے روز صدر ٹرمپ کے ہمراہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ امریکا نے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس کے تحت بین الاقوامی عسکری اتحاد ایران اور یمن کے مقابل تزویراتی اہمیت کے سمندری علاقوں میں تحفظ فراہم کرے گا۔ ڈینفور کے مطابق متعدد ممالک کے ساتھ رابطے کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کسی ایسے نئے فوجی اتحاد کی تشکیل کا امکان ہے جو آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز