الریاض( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایران کی طرف سے علاقائی سلامتی بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر امریکہ نے اپنے ہزاروں فوجی سعودی عرب میں تعینات کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
امریکی وزیر دفاع مارک اسپر کے مطابق سعودی عرب میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی الریاض کی درخواست پر کی جا رہی ہے تاکہ امریکہ کے دیرینہ اتحادی ملک کو ایران کی طرف سے حملوں کی صورت میں تحفظ فراہم کی جاسکے۔
چودہ ستمبر کو واشنگٹن اور ریاض نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران پر عاید کیاتھا۔ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائیٹرز’ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران سے درپیش خطرات کے تناظر میں امریکہ سعودی عرب میں ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “سعودی عرب میں بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی میں فضائی دفاع اور جنگی گروپ شامل ہیں”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے لڑاکا طیارے اور پیٹریاٹ دفاعی نظام تھاڈ اور دو اسکواڈرن فوج بھیجے گئے تھے۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نئی کمک میں 3000 امریکی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا منصوبہ شامل ہے۔
پینٹاگان نے کہا ہے کہ ہم ایرانی حکومت سے الجھنا نہیں چاہتے مگر کسی بھی طرح کے خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ستمبر کے وسط میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب میں آرامکو آئل کی دو تنصیبات پر حملے کا الزام ایران پر لگایا تھا۔ سعودی عرب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب پر ہونے والے 100 حملوں میں ملوث ہے۔
رواں سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں 1500 مزید فوج بھیجنے پر اتفاق کیا تھا۔






