بلوچ نیشنل کانفرنس کا انعقاد ناگزیر
ھمگام اداریہ
چھبیس فروری کے مراصلے کے مطابق عراق میں عراقی عرب قبائل کی کونسل کے دفتر سے جاری پالیسی بیان میں مقبوضہ بلوچستان میں جاری ایرانی قابض فورسز کی بہیمانہ قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جنوبی عراق میں عرب عراق کی قبائلی کونسل کی جانب سے ہنگامی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے بے گناہ لوگوں کے خلاف ان غیرقانونی جرائم کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایران کی اس وحشیانہ عمل پر فوری کاروائی کرے خاص کر اقوام متحدہ کو فوراً اپنا ردعمل دکھانا چاہیے۔
انہوں نے بلوچوں کے قومی جدوجہد کے ساتھ پوری یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس موقعے پر انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی شدت پسند حکومت کی جانب سے برپا کردہ ریاستی دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے بلوچ قوم کے جائز اور منصفانہ مطالبات کو اخلاقی سپورٹ کرتے ہیں۔ـ بلوچستان اور خطے کے دیگر ممالک میں ایرانی پالیسیاں عالمی امن کے لئے خطرہ ثابت ہوتی جارہی ہیں۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق پچیس فروری کو امریکی رکن کانگریس یوتے ہیرل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پوری طریقے سے ایران میں مظلوم عوام کے ساتھ ہوں۔ میں انکی آزادی و حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہونگی۔
چوبیس فروری کو آذربائیجان کی سنٹرل پارٹی آف آذربائیجان نے مقبوضہ بلوچستان میں بلوچوں پر ایرانی بربریت کے خلاف اٹھنے والے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تہران کی نسل پرست حکمرانوں نے کئی سالوں سے ایران میں مقیم دیگر مصائب زدہ قوموں کی طرح بلوچستان کی بہادر قوم کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ انہوں نے تہران کو متنبہہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں ظلم و بربریت کا جو خونی کھیل جاری ہے اس کا انجام ایران کے انتشار کی شکل میں برآمد ہوگا۔
ایرانی حکومت نے ہمیشہ مظلوموں کی آواز دبانے کے لیئے ریاستی طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا ہے جو کہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔ سنٹرل پارٹی آف آذربائیجان نے اعلان کیا ہے کہ ہم بلوچستان کے پُرجوش بہادر لوگوں کے ساتھ ہیں اور خاص طور پر سراوان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور احترام کے ساتھ ان کی سیاسی حمایت کرتے ہیں۔ ایران کی طرف سے بلوچستان میں گزشتہ روز کے وحشیانہ قتل عام کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ جبکہ بلوچ شہدا کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
ادھر کردستان میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم “ھنگاؤ ” نے بھی 24 فروری کو بلوچ قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض ایرانی آرمی کے ہاتھوں شہید ہونے والے مظلوم بلوچوں کی شہادت ناقابل برداشت ہے جس سے کئی معصوم بلوچ مزدور ایرانی آرمی کے ہاتھوں مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی آرمی کی اس بربریت کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔
اسرائیلی ڈیفنس آرمی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے فارسی اکاؤنٹ سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں اور وہ خوراک کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں۔ پانی کے کمی کا مسئلہ انتہائی آسانی سے دور ہوسکتا ہے جیسا کہ ہم اسرائیل میں اپنے عوام کیلئے پانی صاف کرنے کی میسر سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس آرمی کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے لوگ بے روزگاری کا بھی شکار ہیں لیکن بجائے ان کی مدد کی جائے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب ان کو گولیوں کا نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہے؟ مزید سوال اٹھاتے ہوئے اسرائیلی ڈیفنس آرمی نے کہا کہ سراوان واقعہ جہاں نہتے بلوچ تاجروں کو گولیوں سے نشانہ بناکر قتل کیا گیا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
بائیس فروری کو عراق شام یمن اور الاحواز کی آٹھ عرب تنظیموں نے بلوچستان میں ایران کی دہشت گردانہ کار روائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں عرب قوم دوست قوتیں مقبوضہ بلوچستان کے عوام کے خلاف ایرانی دشمن آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کی طرف سے کی جانے والی مجرمانہ کاروائیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کئی دہائیوں سے مظلوموں پر نہ ختم ہونے والے مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے جس کی وجہ سے مظلوموں کے قومی وقار اور بقا کو نقصان پہنچا ہے۔ ـ انھوں نے مزید کہا کہ ایران کئی سالوں سے مشرق وسطی کے ممالک عراق، شام، لبنان اور کئی دیگر عرب ریاستوں کے امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آج عراق، شام، مصر، لبنان، یمن اور دوسرے عرب ریاستوں میں جو سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے اس کا سب سے بڑا ذمہ دار ایران ہے گزشتہ سال عراق میں جب جنرل سلیمانی کو امریکہ نے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا وہ اس وقت عراق میں اپنے پراکسیز سے خفیہ ملاقات کے لیئے جارہے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں آج جو تباہی مچی ہوئی ہے اس کا ذمہ دار ایران ہے۔
گزشتہ روز مقبوضہ بلوچستان میں جو المناک سانحہ پیش آیا جس سے درجن بھر غریب بلوچ مزدوروں کو شہید اور متعدد کو زخمی کیا گیا اس سانحہ نے پوری دنیا میں انسانی روح کو تڑپا دیا ہے۔ اس ظالمانہ اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران بلوچستان میں کتنا ظلم و جبر کر رہا ہے۔
امریکہ کی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پچیس فروری کو اپنا رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ بلوچستان کے سراوان میں بلوچوں کے قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، اپنے فارسی اکاونٹ پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش وہاں کے لوگوں کی بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے آزادی پر قدغن کےمترادف ہے ، ہم ایران میں ہیں اور ایرانی مقتدرہ سے لوگوں کی حقوق کا احترام کرنے پر زور دیتے ہیں۔
بائیس فروری کو ایرانی قابض افواج کے ہاتھوں تیل کی تجارت سے وابسطہ مقامی بلوچ نوجوانوں کی شہادت پر شدید رد عمل دیتے ہوئے بلوچستان کے آزادی پسند رہنما حیربیار مری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ پر معاشی دہشت گردی کرنے کا الزام لگاتا ہے لیکن درحقیقت وہ خود بلوچ قوم کے خلاف معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ایرانی فورسز نے بلوچوں کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی گاڑیوں کو بھی نظر آتش کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض ایران نے بلوچوں کی نقل و عمل پر قدغن لگاتے ہوئے انہیں اپنے ہی مادر وطن میں مقید کررکھا ہے۔
یاد رہے پاکستان کے مقبوضہ بلوچستان سے حیربیار مری وہ واحد قومی رہنما ہیں جنہوں نے شروع دن سے ہی پاکستان و ایران کی قبضہ گیریت کے خلاف واضح پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ ان کے قدموں میں کبھی بھی لغزش نہیں آئی، وہ بلوچستان کی جغرافیہ اور نوری نصیرخان کی کھینچی گئی بلوچ سرحدات کا ہر سطح پر ڈٹ کر دفاع کررہے ہیں۔
22 فروری کو گجر کی قابض آرمی نے تیل کے کاروبار سے وابسطہ بلوچ مزدوروں پر اندھادھند فائرنگ کھول دی تھی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نہتے بلوچوں کی شہادتیں ہوئیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تیل کے کاروبار سے منسلک بلوچ تاجروں نے اپنی ہی گلزمین پر برطانوی و ایرانی گجر کے ہاتھوں کھینچی گئی مصنوعی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ ایران نے کئی دنوں سے بارڈر کو سیل کیا ہواتھا، جس سے ہزاروں پک اپ گاڑیاں شمسر گاوں میں پھنس گئی تھیں۔ اس ریاستی سوچے سمجھے منصوبے کے پس پردہ محرکات میں لوگوں کو غضائی قلت کا شکار بنانا، انہیں معاشی طور پر مفلوج کرنا اور ان کو اپنی ہی زمین پر قید کرنا تھا۔ مصنوعی سرحد کے دونوں جانب نقل و عمل کی بندش کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ریاستی بربریت کے شکار لوگوں کا غصہ بالآخر لاوے کی طرح پھٹ پڑا اور انہوں نے قابض ایرانی بارڈر فورسز کی رکاوٹوں کو عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی دہشت گرد فورسز نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا، تاکہ بلوچوں کو یہ احساس دلایا جاسکے کہ ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ ایرانی قابض فورسز کے ہاتھوں میں ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل بھی کئی دفعہ گجر اور پنجابی افواج کے ہاتھوں ہزاروں بلوچ شہید کئے گئے ہیں۔ لیکن اس دفعہ بلوچ عوام نے قابض ایران کے خونی ہاتھوں کومروڑنے کا فیصلہ کر لیا اور مزاحمت کو اپنی قومی بقا کیلئے ناگزیر سمجھا ہے۔ آج ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ وسیع ہوتا جارہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد رخ اختیار کرتا چلا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصویریں اور ویڈیوز گردش کررہی ہیں جہاں جگہ جگہ بلوچ اور قابض ایرانی فورسز مد مقابل کھڑے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک بلوچ بچا اپنی غلیل سے ایرانی فورسز چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا دیکھا جاسکتا ہے۔ بلوچ عوام کے اندر دہائیوں سے دبی چنگاری آگ کے شعلوں میں بدلتی نظر آرہی ہے۔ بلوچ قومی بیداری کو دیکھتے ہوئے تہران کے قابض حکمرانوں نے انٹرنیٹ اور مواصلات کے دوسرے تمام ذرائع کو بند کردیا ہے تاکہ مقبوضہ بلوچستان میں جاری ریاستی دہشت گردی، پکڑ دھکڑ اور قتل و غارت گری کو عالمی میڈیا سے اوجھل رکھا جاسکے لیکن بلوچ نوجوان تمام تر ریاستی بندشوں، قدغنوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی آواز کو اجاگر کررہے ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ بلوچستان اور ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے بلوچوں کے مابین بھائی چارگی، قومی یگانگت، یکجہتی اور مل کر غلامی سے چٹکارے کی چاہت شدت اختیار کررہا ہے۔ اب سوشل میڈیا میں بلوچ عوام مشترکہ طور پر مہم چلا کر بلوچ قومی بیانیہ کو واضح انداز میں سامنے لارہے ہیں۔ بلوچ عوام کے اندر قومی بیداری کو مبصرین تحریک آزادی کے لئے نیگ شگون اور حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ دنوں سے عوامی مزاحمت جاری ہے۔ عالمی اور ہمسایہ ممالک کی میڈیا قدرے مناسب کوریج دے رہے ہیں۔ دیارغیر میں رہنے والے بلوچ ڈائسپورہ سوشل میڈیا میں اپنی عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال سے ایک بات واضع ہوچکی ہے کہ اس تحریک میں پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کی سیاسی پارٹیوں اور سربراہوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری کے علاوہ باقی بلوچ رہنما اور تنظیمیں ایران کے خلاف واضح اور شفاف قومی بیانیہ متعارف کرانے میں اب تک ہچکچاہٹ کے شکار نظر آتے ہیں۔ ایران کے خلاف بلوچ قومی غلامی سے گلوخلاصی کا عوامی مزاحمتی ابھار بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس عوامی تحریک کی بہتر انداز میں رہنمائی کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیک ہولڈرز ایک مشترکہ نیشنل کانفرنس بلاتے، تحریک کو ایک متفقہ سیاسی قیادت فراہم کرتے، دنیا کے سامنے بلوچ کیس کو پیش کرتے اور مداخلت کی اپیل کرتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ بلوچ قیادت ایرانی وپاکستانی مظالم کے خلاف جلد ایک ہنگامی قومی کانفرنس کا اہتمام کرے جس میں ایرانی و پاکستانی مقبوضہ بلوچستان اور افغانستان کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی پسند پارٹیاں اور قیادت شرکت کرے، اور خطے کی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک قومی لائحہ عمل طے کرے۔
اب جبکہ امریکہ، اسرائیل، عرب اور کرد اقوام بلوچ قوم کے موقف کی تائید و حمایت کررہے ہیں تو یہ ایک سنہری موقع ہے ایران سے آزادی لینے اور اپنی جداگانہ بلوچ قومی شناخت کو بحال کرنے کا۔ اس قومی کانفرنس کا اعلان کوئی بلوچ پارٹی یا لیڈر کرے، باقی تمام بلوچ قیادت اور پارٹیوں کو نیک نیتی، خوش اصلوبی سے اس میں شرکت کرنی چاہیے تاکہ ہم مل کر ایران و پاکستان کی دہائیوں سے جاری بلوچ نسل کشی، بلوچ ساحل و وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث دشمنوں کا ہاتھ روک سکیں اور ایک خوشحال مستقبل اپنی آنے والی نسل کو تحفے میں دے سکیں۔ یہ ایک سنہری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی منزل قریب تر کرسکتے ہیں اور اس کو گنوانا یقیناً قومی مفادات کے خلاف ایک بہت ہی بڑی غفلت کہلائے گا جس کے لئے تاریخ یقناً ذمہ داروں کا احتساب کریگی۔
ہمیں اپنی پارٹی، گروہی ضرورتوں، عارضی گروہی مادی مجبوریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے بلوچستان کی قومی آزادی کے یک نقاطی ایجنڈے پر متفق ہونا پڑیگا کیونکہ ایران اور پاکستان دو قابض ریاستیں ہیں اور جب تک ان سے مل کر نہیں لڑا جاتا تب تک قومی یکجتی، اتحاد، اشتراک عمل جیسی باتیں کھوکھلی اور وقت گزاری کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔















