موقع پرستی دنیا کی بدتریں بیماریوں میں سے ایک ہے جو اچھے بھلے آدمی کی جان نکال کر اُسے عضو معطل کی طرح ناکارہ بنا دیتی ہے اگرایسی بیماری کسی ایسے آدمی کو لگ جائے جس کے پیچھے ایک گروہ ، جماعت یا قوم ہو تو وہ اُن سب کواپنے ساتھ کھینچ کر کہیں کا نہیں چھوڑتا ۔ بلوچستان میں اس وقت کچھ قوتیں اس کمبخت بیماری کا شکار اقتدار تک رسائی کے دن رات گن رہے ہیں دلچسپ بات یہ ہے ان میں کسی کی اپنی کوئی اہمیت نہیں اس لئے سب الگ الگ کسی نہ کسی بلوچ آزادی پسند قوت کو دام میں لانے حکومت کو ماموں بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور سب کی نظریں اگلے چھ مہینے بعد ہونے والی صوبائی تبدیلیوں پر ٹکی ہوئی ہیں ۔کچھ قوتو ں کی للچائی ہوئی نظریں وزارت اعلیٰ سمیت گورنر شپ پر بھی ٹِکی ہوئی ہیں جبکہ کچھ قوتیں قناعت کا مظاہرہ کرکے فقط گورنر شپ کیساتھ چند دیگر معمولی مراعات پر راضی ہیں ۔ PMLnکی صوبائی قیادت کی تدبیریں : وزارت اعلیٰ بمعہ گورنرشپ کی دوڑ میں مسلم لیگ نون کی صوبائی قیادت سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے کیونکہ باقی اُمیدواروں میں سے کوئی بھی حقیقی تُرپ کا پتا دکھانے کامیاب ہوا تو قبل از ہمہ قربانی کا بکرا برسراقتدار جماعت ہی ہوگی جس کی صوبائی قیادت آدھی مدت کی وزارت اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے وقتِ انتظارکودوسو سال کی طرح گن گن کر گذاررہی ہے اگر اچانک ایسی صورتحال پیدا ہوگی تو اُس کیلئے وہ کسی طرح بھی زہنی طور پرتیار نہیں ۔یہاں یہ امر بھی زیرنظر رہے کہ چنگیزمری اور ثناء زہری دونوں وزارت اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کی کوششوں میں یکساں مصروف ہیں ثناء اللہ زہری صوبائی صدر ہونے اور اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کے بدلے خود کو صحیح حقدار سمجھتے ہیں جبکہ چنگیزمری آزادی پسند مریوں کو رام کرنے اوراپنے بھائی مہران مری کو پاکستانی “قومی دھارے “میں لانے کی صلاحیت رکھنے کے پیش نظر وزارت اعلیٰ کی کرسی کے خواہشمند ہیں حاجی قلاتی کے ہتھیار پھینکنے کا ڈرامہ اسکی ایک جھلک تھی جسے بہ امر مجبوری چنگیز مری نے دکھایاکیونکہ اگر مہران مری کا کارڈ اختر مینگل اور گزین مری کی طرف سے کھیلنے کا خدشہ نہیں ہوتا تو چنگیز مری اتنی جلدی یہ کارڈ اس وقت ہرگز نہیں پھینکتا۔ ان کے سامنے بھی سب سے بڑا چیلنج بلوچ آزادی پسند قیادت کو بات چیت کے میز پر لانا ہے ۔اس وقت اُن کی نظریں تین اہداف پر بیک وقت ٹکی ہوئی ہیں پہلہ ہدف یقیناًبراہمدغ خان بگٹی ،دوسرا مہران مری اور تیسراخان قلات سلیمان داؤدہیں ۔ان تینوں کو آساں ہدف سمجھنے کی غلط فہمی کی وجہ اتنی سی ہے کہ یہ حضرات یہ با ور کرانے کامیاب نہیں ہوئے ہیں کہ اُن کے کچھ ممکنہ اتحادی اورکئی رشتہ داراُن کی نسبت سے اسلام آبادکو مامو ں بنارہے ہیں ۔خان صاحب اپنے پاکستان پرست عزیزوں سے ترک تعلق اور اُن کے پیداکردہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کامیاب نہیں ہوئے ہیں جبکہ براہمدغ خان اور مہران بھی پاکستان پرست بی این پی مینگل ،شازین بگٹی اور چنگیز مری بارے نرم گوشہ رکھ کر غیر ارادی طور پریہ سگنل دے چکے ہیں کہ اُن تک رسائی کیسے اور کس کے زریعے ممکن ہے ۔مسلم لیگ کی صوبائی قیادت شازین بگٹی کے زریعے بگٹی مہاجرین کی آباد کاری کے نام پر بڑے پیمانے پرسیاسی رشوت دینے اور اس کا میکانزم بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ٹھیک اِسی طرح کے آبادکاری پروجیکٹ کے ساتھ چنگیز مری بھی اپنی کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں یہ ممکنہ سیناریو PMLn کے صوبائی قیادت کے ایک حصے کے دلی خواہش کے مطابق ہے کیونکہ گورنر کی نامزدگی اورآبادکاری فنڈزدونوں مرکز سے ہوں گے لہذا اُنھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا بدلے میں وزارت اعلیٰ کی کرسی محفوظ رہے گی ۔اسمیں پارٹی کے دوسرے حصے کی رضامندی شامل نہیں ہوگی جوآئی جی ایف سی کی زبان بولنے میں عارمحسوس نہیں کرتے اور آزادی پسندوں کودھشتگرد کہکر پکارتے ہیں۔وہ بظاہر پیچھے ہٹیں گے لیکن اُن کا اصل کام تب شروع ہوگا جب کوئی آزادی پسندکسی نہ کسی طرح شریک اقتدار و ثروت ہونے بلوچ قومی تحریک آزادی سے انحراف کی غلطی کر ے (تا حال اس کے امکانات چنداں روشن دکھائی نہیں دیتے ) ۔ دوسرا شکارخان قلات سلیمان داؤد ہے جنہیں پاکستان لانا اور اُسے منہ مانگی دام دینا یقیناً صوبائی قیادت واسلام آباد کے ترجیحات میں شامل نہیں۔ اُنھیں کسی سے بھی زیادہ اس بات کا ادراک ہے کہ خان کے آنے نہ آنے سے داخلی معاملات میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آنے والی بلکہ بعض قوتیں حکومت کی اس نمائشی قدم پر برہم ہوکر اپنے حملوں میں شدت لائیں گے جن کیلئے کوئٹہ اور اسلام آباد دونوں آمادہ نہیں تاہم خان کو اُس کے اقتدار کے منتظر رشتہ داروں کے زریعے اِسی طرح خبروں کا موضوع بنا کر اپنا کام چلانے تدبیریں ہوتی رہیں گی ۔کئی رشتہ داروں کی نوسربازانہ کوششوں کے بعد کہنہ مشق شہزادہ محی الدین اپنے کئی برسوں کی خاموشی تھوڑ کر ایک بار پھر اپنے تنظیم ” برات” کے ساتھ سرگرم دکھائی دیتے ہیں ۔شہزادہ محی الدین کا ” برات” حقیقت میں اُس بلا کی مانند ہے جس کے بارے کہانیوں میں ذکر ہے کہ چھ مہینے سال سوتا ہے پھر چھ مہینے سال جاگتا رہتا ہے بلکہ آپ کا ” برات” اُن بلاؤں سے بھی دو قدم آگے آٹھ دس سال سوتا ہے پھر اچانک جب کبھی مارشل لاء کی بوآتی ہے یا چور دروازوں کے کھلنے کی اُمیدیں پیدا ہوتی ہیں توشہزادہ محی الدین اور ” برات” دونوں کہیں سے نمودار ہوتے ہیں اس بار بھی جب دسمبر کو مری معاہدے کے مطابق اقتدار میں تبدیلی ہونے والی ہے جسمیں ممکن ہے کہ گورنر کی بھی تبدیلی ہو۔یوں شہزادہ کی بے حاصل سرگرمیاں بے وجہ معلوم نہیں ہوتیں ۔ چنانچہ آپ نے لندن جانے سے دو ماہ قبل ایک پریس کانفرنس کرکے اسلام آباد کو الٹی میٹم دے دیا کہ اگراکتیس دسمبر تک بلوچستان کا مسلہ حل نہیں کیا گیا توہم امراء بلوچوں کو اپنے قسمت کا فیصلہ کرنے سے نہیں روک سکتے اور ہم اُنھیں کھلی چھوٹ دیں گے۔ ۔ اس پریس کانفرنس سے ٹھیک آٹھ دن قبل آپ نے جنرل راحیل شریف کے والدہ کی تعزیت پر جانے کے بعد اپنے بیان میں کہاتھا 147 دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور پاک فوج ہی اندرونی و بیرونی دہشت گردی کو ختم کر سکتی ہے۔ پرنس محی الدین بلوچ نے آرمی چیف راحیل شریف سے اپیل کیا کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف فائنل راؤنڈ کریں 148 کوئی شہزادہ صاحب کو اتنی بات بتائے کہ وہ چاہے جس کو بھی دہشت گرد سمجھے اُس کی مرضی مگر راحیل شریف اُن تمام بلوچوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے جو بلوچ ریاست کی بحالی کے متمنی ہیں یا جن کی بے گور و کفن لاشیں بلوچستان کے کونے کونے سے مل رہے ہیں۔ اورآپ جس پاک فوج کی پشت پرکھڑی قوم کی بات کررہے ہیں وہ قوم کم از کم بلوچ نہیں! اس کے بعد آپ سے کوئی یہ بھی استفسارکرے کہ آپ نے اب تک کس کو روکا ہے اور کون آپکی اجازت کاطلبگار ہے؟جو لوگ لڑ رہے ہیں اور جن کے ساتھ ریاست بیٹھنا چاہتی ہے اُنھیں نہ کل آپ کے اجازت کی ضرورت محسوس ہوئی نہ آج اس کی کسی کو پرواہ ہے اور نہ آنے والے کل کوکو ئی آپ کے ہاں یا نہیں کو خاطر میں لائے گااور یہ بھی ارشاد فرمائیے کہ آپ کا حتمی تاریخ اکتیس دسمبر کیوں ہے اس سے پہلے اور بعد میں کیوں نہیں ؟یااب تک جو ہزاروں لاشیں گری ہیں آپ نے کتنے لاشوں کو کندھا دیا ہے اور آپ بذات خود کہاں کھڑے ہیں؟ ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں قسمت آزماؤں کی ایک ہجوم اس انتظار میں گھڑیاں گن رہی ہے کہ کب بلوچستان کی آزادی کیلئے بہتے تما م لہویا کسی شہید و گمشدہ کے نسبت کا سودا اسلام آباد سے لگایا جائے ۔اگر ایسا نہیں ہے تو اسلام آباد کو بات چیت پر آمادہ یامجبورکرنے سے قبل یہ بتاناپسند کریں گے کہ آپ کس ایجنڈے کے تحت بات چیت کے خواہشمند ہیں؟کیا آپ کابلوچ مسلہ حل بارے اپناکوئی نکتہ نظرہے کہ نہیں؟کہیںآپ کا نکتہ نظر آزادی پسند وں کے نکتہ نظر سے متصادم تو نہیں؟اگر آپ بلوچوں کے گرتے لاشوں اور گمشدگی کومسلہ سمجھ کر بات چیت کے آرزو مند ہیں تو یہ کارڈ آپ سے پہلے بی این پی مینگل و عوامی اور نیشنل پارٹی بدترین ناکامی سے کھیل چکے ہیں اور آئندہ بھی کھلیں گے لیکن بلوچ کا مسلہ یہ نہیں۔ بلوچ کا مسلہ اُس کے وطن کی غلامی ہے اُس کی وجہ سے پیدا شدہ مصاحب نہیں ۔قصہ کوتاہ شہزادہ صاحب کے جانکاری کیلئے عرض ہے کہ وہ زمانہ کب کا لد چکا جب بلوچ کوپہاڑوں میں لڑا کر ریسٹ ہاوسزمیں بیچا جاتا تھا۔ اس گروپ کی زیادہ سے زیادہ حاصل وصول گورنرشپ کی سیٹ کے ساتھ کچھ دیگر مراعات ہوں گے۔ برسراقتدار جماعت کی ایک اور قدرے کمزور اورنامقبول شکار بابا مری کے دوسرے بڑے صاحبزادے گزین مری بھی ہوسکتے ہیں جو ایک عرصے سے اسلام آباد کو اشاروں کنایوں میں اپنی رضامندی کے سگنل دے رہے ہیں لیکن اسلام آباد اُنھیں اس لئے سنجیدگی سے نہیں لے رہا کیونکہ جو کام چنگیز مری پہلے سے کررہا اُسمیں کسی اور کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی بلکہ اُن کے آنے سے یہ خدشہ موجود ہے کہ بھائیوں میں ایک نئی رسی کشی کا آغازنہ ہو ۔ تاہم اگر وہ مہران مری اور یو بی اے اوراُنکے قریبی اتحادی براہمدغ خان سے کسی تعلق استواری میں معاون ثابت ہونے کی اہلیت دکھانے کامیاب ہوں گے تو اُنھیں بھی بڑے اعلانات اور کروفر کیساتھ لانے اور ایک کامیاب ابتداء دکھانے کوئی کسر نہیں چھوڑا جائے گامگر اُن کا یہ کارڈ حاجی قلاتی کا چنگیز کے ہاتھوں بعیت سے کارآمد نہیں رہا۔ بی این پی مینگل کی نئی کوشش پرانی چال: بی این پی مینگل کی پوزیشن اس دوڑ میں قابل رشک نہیں تاہم وہ اس سے ناباہر ہے اور ناہی نااُمید ۔نیشنل پارٹی کی مکمل ناکامی اور اس سے قبل بی این پی عوامی کی دس سالہ دور حکومت میں بلوچ مسلہ بارے لاتعلقی کے بعد اسلام آباد کے پاس خود فریبی میں مبتلا ہونے کیلئے بی این پی مینگل کے گرداب کے سوا کوئی دوسری قوت نہیں جو جھوٹ موٹ سے ہی سہی یہ بات کہنے کی پوزیشن میں ہے کہ وہ بلوچ قوم پرست سیاست کی بنیاد پر زمین میں اپنی جڑیں رکھ کر آزادی پسندوں کو پاکستانی شرائط پر بات چیت کی میز پر لانے کی پوزیشن میں ہے ایسا کہنے اُن کے پاس حقیقت سے بہت دور مگرایک جھوٹاجواز بھی ہے کیونکہ اخترمینگل کا بڑا بھائی جاوید مینگل کو ایک عرصے سے کچھ کور فہم عناصر آزادی پسندوں کے زمرے میں شمار کرانے کی ضد اورکوششیں کررہے ہیں اس کے علاوہ ان کا گروپ براہمدغ خان بگٹی کے ساتھ ذاتی قربتیں دکھانے بھی کامیاب ہو چکا ہے جو ان کی خاطر اپنے اتحادی بی این ایف سے الگ ہوا اور اب پچھلے دنوں لندن میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کے زریعے اس خبر کا مرکزی کردار بھی بنا جسمیںآپ بی این پی سے ممکنہ اتحاد کی بات کرتے ہیں۔ اس خبر کے بعد بی این پی مینگل کی قیادت تین حکمت عملیوں کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے پہلہ موافق یا معجزاتی اور دوسرا قبول موافق تیسرا تسلیاتی ۔ معجزاتی یہ کہ حالات کو اس طرف لے جایا جائے اور ایسا تاثر قائم کیا جائے کہ بی این پی مینگل ہی وہ قوت ہے جوبلوچ مسلہ حل کرسکتی ہے جس کے براہمدغ اور اللہ نذر کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور اُنھیں حکومت سونپ دینے کی صورت میں وہ ان دونوں ستونوں کوپاکستان کیلئے گرا سکتے ہیں اس کے بدلے میں ذوالفقار مگسی جیسا معجزہ اختر مینگل کے ساتھ رونما ہو جو اسمبلی میں اکیلا ہونے باوجود صوبے کا وزیر اعلیٰ چنا گیا ۔دوسری صورت میں مرکز اس حد تک مہربان رہے کہ صوبے کی گورنر شپ سمیت چند دیگر مراعات بخشے جبکہ تسلیاتی میں اس پر خود کو تسلی دے کر آدھی کامیابی تصور کی جائے کہ کچھ ملے نہ ملے مگرمسلم لیگ نون کے سردار زہری کو وزیر اعلیٰ نہ ہونے دیا جائے ۔ان تینوں صورتوں میں بی این پی مینگل کے ساتھ ایک ہی کارڈ ہے اور وہ ہے آزادی پسندوں کو پاکستان کے دائرے میں لانے کا ۔ مندرجہ بالاتمام قسمت آزماؤں میں سے (نیشنل پارٹی اب ان میں اس لئے شامل نہیں کہ وہ اپنے سارے کارڈ میز پر بکھیر چکا)بی این پی مینگل زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے کیونکہ باقی کوئی بھی اپنے ساتھ سیاسی عناصر پر مشتمل ایسی ٹیم نہیں رکھتاہے جو تاحال لوگوں کویہ فریب د ینے کامیاب ہو ا ہو کہ اُس کی سیاست کی بنیاد بلوچ و بلوچستان ہے اور وہ بلوچستان کے ساحل و وسائل کا حقیقی نگہبان ہے جبکہ حقیقت میں وہ بقول بابا مری بلوچ وسائل کے سب سے بڑے بیوپار ہیں جس سے قوم پرستی کے نام پر قومی سیاست کو سب سے زیادہ دھچکا لگا ہے۔ بی این پی مینگل اور شفیق مینگل گو کہ بظاہر بلوچ و بلوچستان اور پاکستان کی بات کرتے ہیں مگر حقیقت میں انکی سیاست کا محور صرف اور صرف وڈھ اوروہاں کے پہاڑوں کے قیمتی پتھر ہیں۔ نہ شفیق مینگل کو پاکستان و اسلام بچانے کی پڑی ہے اور نہ اختر مینگل بلوچ کے غم سے نڈھال ہے بلکہ دونوں اپنے اثر ورسوخ کو برقرار رکھنے پاکستان اور بلوچ قوم پر احسان جتانے کی سعی کررہے ہیں ۔جبکہ پاکستان کو ان دونوں کے وفاداری اور تعبداری پر کو ئی شک نہیں اس لئے وہ اُنھیں بوقت ضرورت باریاں بدل کے بہلاتا ہے۔ اس مختصر بحث کے تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سب کی نظریں بلوچستان میں اقتدار پر ٹکی ہوئی ہیں اور سب کو اس تک پہنچنے کسی نہ کسی آزادی پسند قوت کی یا پوری تحریک کی بلیدان چڑھانا ہے ۔اس لئے حالات تحریک آزادی کے سربراہاں سے کسی بھی وقت سے زیادہ سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اگلے چھ ماہ میں اپنوں کی سازشوں اور ریاستی ظلم و بربریت میں بے حدانتہا اضافہ ہوگا تاکہ تمام سیاہ کارنامے نیشنل پارٹی کے حصے میں جائیں اور نئی مسلم لیگ حکومت کے آنے سے پہلے تحریک کا کمرٹوٹتے ہی تمام آپریشنز ختم کئے جاسکیں اور نئے حاکم نئے آبادکاری پیکجز کیساتھ مرہم رکھنے والے مسیحا معلوم ہوں ۔مگر ایسا ہرگز نہیں ہونے والااس کے کئی وجوہات ہیں جو الگ بحث کا متقاضی ہیں تاہم بلوچ قوم اور خاص کر حیربیار مری پر دباؤ میں کئی گنااضافہ ہوگا کیونکہ پاکستان کی نظرمیں جس طرح بلوچ قوم کو توڑنا مشکل ہے اِسی طرح حیربیار مری کاتسخیربھی ناممکنات میں ہے مقصد یہ کہ اگرحیربیار مری ہے تو کم از کم اس رواں تحریک کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکے گا (ختم شُد)















