ارومیا (ہمگام نیوز) حالیہ دنوں میں مہسا امینی کے حکومتی قتل کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران ایرانی سیکورٹی اداروں نے ارومیا میں درجنوں کرد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ کی موصولہ رپورٹ کے مطابق پیر 26 ستمبر 2022 کو کردستان کے شہر ارومیا سے تعلق رکھنے والے دو شہریوں شورش ساکانی اور سلیم مرزائی کو سیکورٹی اداروں نے گرفتار کیا ہے ۔
اسی دن شام کو سیکورٹی فورسز اور پولیس نے نوجوان فنکار اور سابق سیاسی قیدی پیمان مرزا زادہ کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر لے گئے۔
دوسری جانب 25 ستمبر بروز اتوار کی شام کو سیکورٹی فورسز نے پیمان ابراہیمی اور مہرداد ابراہیمی نامی دو بھائیوں کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں گرفتار کر لیا نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
اسی دن، آران تیباش، جو ایک سابق سیاسی قیدی تھا اور بوکان شہر میں ارومیا کے ضلع مرگور ضلع کے دزہ گاؤں کا رہنے والا تھا، کو انٹیلی جنس فورسز نے گرفتار کر لیا۔
گرفتاریوں کی حالیہ لہر کے تسلسل میں ارومیا کے گاؤں “دلو” سے ارمین نبی زادہ اور فریدون نبی زادہ کو سیکورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا ۔
اس کے علاوہ سینا حسنی کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا اور امیر عبداللھی اور مہران پازشی کو سیکورٹی فورسز نے منگل کو گرفتار کیا ہے ۔
ہینگاؤ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ان لوگوں کی گرفتاری تشدد کے ساتھ ہوئی تھی۔


