سنندج (ہمگام نیوز ) انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے خبر رساں ایجنسی نے میڈیا کو اطلاع دی ہے کہ قابض ایرانی آرمی IRGC نے ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کے علاوہ کردستان کے علاقے میں واقع “کویہ” شہر میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا ہے ۔
سپاہ پاسداران” نامی چینل نے آج اپنے ٹیلیگرام چینل میں خبر نشر کیا ہے کہ ایران اور عراق کی سرحد پر واقع کردستان کے علاقے میں ایران کی مخالفت کرنے والی کرد جماعتوں کے ہیڈ کوارٹر پر IRGC نے ڈرون، توپ خانے اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
“العربیہ” کے رپورٹر نے بھی بتایا ہے کہ ان حملوں میں 6 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملے لگاتار پانچویں روز کیے جا رہے ہیں اور آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں انھوں نے کرد اپوزیشن جماعتوں کے “ہیڈ کوارٹرز اور ٹھکانوں” کو نشانہ بنایا، جن میں “پیژاک” بھی شامل ہے۔
آئی آر جی سی کے ڈپٹی آپریشنز آفیسر عباس نیلفروشان نے دعویٰ کیا، “حال ہی میں جن ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، ان کا گزشتہ چند دنوں کی تنازعات میں سب سے بڑا کردار تھا۔”
آئی آر جی سی کا یہ اہلکار ایران میں موجودہ ملک گیر مظاہروں کا حوالہ دے رہا ہے، جو ارشاد گشتی ( اخلاقی پولیس )کے ہاتھوں ایک 22 سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کے قتل سے بھڑک اٹھے تھے۔ اس واقعے سے کردستان کے شہروں سے احتجاج شروع ہوا اور اس کا دائرہ تیزی سے پورے ایران تک پھیل گیا۔
آئی آر جی سی ٹیلیگرام چینل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کردستان کے علاقے سلیمانیہ کے “زرگویز” علاقے میں واقع “کوملہ” پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو بھی “ڈرون اور توپ خانے” کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی نے عراقی کردستان ریجن کے مرکز اربیل میں “کردستان فریڈم پارٹی” کے ہیڈ کوارٹر اور “کردستان ڈیموکریٹک پارٹی” کے سیاسی دفتر پر “شاہد-136″ ڈرون سے حملے کا بھی دعوی کیا ہے ۔
انسانی حقوق کی ویب سائٹ ” ھینگاو ” نے تصاویر شائع کیں اور بتایا کہ IRGC کے میزائلوں نے ایک شہری کیمپ کو نشانہ بنایا جہاں پیشمرگہ فورسز اور ایرانی کرد مہاجرین کے متعدد خاندان رہتے ہیں۔
ہینگاو کی رپورٹ کے مطابق، ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کے علاوہ، IRGC نے کردستان ریجن کے شہر “کویہ” میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔
اس خبر رساں ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں کوملہ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے لیے کم از کم 20 ڈرون استعمال کیے گئے۔
“العربیہ” کے ذرائع نے کل اطلاع دی ہے کہ ایک دھماکہ خیز ڈرون، غالباً ایرانی، عراق کے کردستان ریجن کے مرکز اربیل شہر کے شمال میں گرا۔
کرد زبان کے سیٹلائٹ چینل “روداوو” نے بھی منگل کے روز اربیل کے قریب “چومان” کے علاقے کے ایک گاؤں پر ایک دھماکہ خیز ڈرون، ممکنہ طور پر ایرانی، کے حملے کی اطلاع دی۔
یہ حملے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب ایران میں ملک گیر احتجاج اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 76 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق، IRGC کے حملوں کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی رائے عامہ کو ملک کی حالت سے ہٹانا تھا اور یہ انٹرنیٹ کو منقطع کرنے اور میڈیا کے ماحول کو متاثر کرنے جیسے اقدامات کے مطابق کیے گئے تھے۔


