شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ شال زون نے آج بمورخہ 3 اپریل جامعہ بلوچستان میں ایک سینئر باڈی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس شال زون کے صدر حکمت قمبر کی صدارت میں ہوئی، جس کی کاروائی زونل جنرل سیکرٹری نبی بلوچ نے چلائی، اجلاس کا مہمان خاص مرکزی کمیٹی کا رکن گل حسن بلوچ تھا۔ مذکورہ اجلاس میں مختلف ایجنڈوں پر پُرمغز گفتگو کیساتھ ساتھ تنظیم کاری کے متعلق آگے کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے ساتھیوں نے عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال کے ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاسی لینڈسکیپ اس وقت جدید گلوبلائزیشن اور سامراجی طاقتوں کی کثیر الجہتی کشمکش، مقابلہ بازی اور سرد جنگ کی وجہ سے یکسر بدل رہی ہے۔ ایک طرف گلوبلائزیشن کی برق رفتار دوڑ کی وجہ سے فاصلے ختم ہورہے ہیں، کمیونیکیشن گیپ گھٹ رہی ہے۔ دریں اثنا، باہمی انحصار اور باہمی اتصال میں بےتحاشا تیزی اور بیشی رونما ہورہی ہے۔ تو دوسری طرف، بڑی سامراجی قوتوں کے اپنے استعماری ورلڈ آرڈز کی عملی تعبیر کیلیے سوفٹ اور ہارڈ پاورز کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔ ساتھیوں نے مزید کہا کہ سامراجی قوتوں کی توسیع پسندانہ عزائم کی بناء پر دنیا کے دیگر کمزور ممالک کو اپنے کیمپ میں شامل کرنے یا برقرار رکھنے کیلئے stick اور carrot اپروچ و حربہ استعمال کررہے ہیں۔ ان کے حربوں کے اطلاق کے نتیجے میں تمام تر سطحوں میں polarization جڑیں مار رہی ہے اور ہر جا و کجا national integration اور social cohesion پر برے اثرات مرتب کررہے ہیں۔
ساتھیوں نے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ سامراجی قوتیں اس وقت ایک دوسرے کو مختلف محازوں پر زیرعتاب کرنے اور فاتح و غالب قوت بننے کیلیے عالمی قوانین اور اقدار کی کھل کر پامالی کررہے ہیں۔ دنیا کے کمزور ممالک کی خودمختاری ہو، علاقائی سلامتی ہو یا کمزور اقوام کی قومی حق خودارادیت ہو، کو پس پشت ڈال کر طاقت، زبردستی، دھمکی دھونس اور لالچ کی بنیاد پر ان کی سرزمینوں پر اپنی اجارہ داری قائم کررہے ہیں، لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، ان کی زمینوں کو اپنے لیئے بطور اسٹریٹجک ٹول اور بفر زون استعمال کررہے ہیں اور اپنے مخالفوں کو بے دخل کرنے کیلئے ان کی سرزمینوں پر پروکسی جنگیں لڑرہی ہیں۔ ساتھیوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سامراجی قوتیں “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کے کلیہ پر کاربند رہنے کا مکمل طور پر ٹھان لی ہے اور اب جو چوہیں اپنی طاقت اور گھمنڈ کے نشے میں کرسکتے ہیں۔ ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں، عالمی اداروں پر جو امید تھا، وہ اب یاس میں بدل رہا ہے کیونکہ عالمی امن، تحفظ اور انصاف کے custodian عالمی ادارے بالکل futile اور ناکام ہوچکے ہیں۔
ساتھیوں نے پاکستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا پاکستان اس وقت بدترین سیاسی بحران، معاشی بحران، عدالتی بحران، قانونی بحران غرض کئی دیگر شعبہ ہائے جات بحرانوں کا بری طرح شکار ہے اور جس کے منفی اثرات براہِ راست بلوچ قوم اور بلوچستان پر مرتب ہورہے ہیں۔ ساتھیوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اس وقت کئی مسائل کا شکار ہے جس میں سب سے پہلا مسئلہ بلوچ کی وجود کا ہے۔ بلوچ اپنی وجود کے اعتبار سے بہت زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہے، یہاں جبری گمشدگیاں، جعلی قتل عام، مسخ شدہ لاشوں غرض کئی شکلوں میں بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے جو کہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچ قوم کے ساحل و سائل پر قبضہ جمایا گیا ہے۔ آئے روز وفاق اور کھٹ پتلی حکومت بلوچستان بلوچ ساحل و وسائل کو سامراجی پیراسئٹک قوتوں کو سستے داموں پر بھیجتے ہیں اور بلوچ کیلئے موت، استحصال، غربت، بیماری، افلاس اور درپدری خاک پہ سری as aftermaths چھوڑتے ہیں۔
علاوہ، ازیں ،بلوچستان اس وقت ڈیموگرافک اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہیں۔ ساتھیوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بلوچ قوم کو اپنی سرزمین پر بے دخل کی جارہی ہے، ان کے گھروں کو مسمار کررہے ہیں، ان جھونپڑیوں کو جلارہے ہیں اور ان کو اپنے آبائی علاقوں سے علاقہ بدر کررہے ہیں۔ تو دوسری طرف مہاجرین اور سیٹلرز کو ان کی جگہ ایک سوچھی سمجی سازش کے تحت آباد کیا جارہا ہے۔ جس سے نہ صرف بلوچ کی آبادی اور ثقافت کو ناقابل تلافی نصانات درپیش آرہا ہے بلکہ بلوچ کی وجود اور بقا کو خطرے سے دو چار کررہا ہے۔
دوستوں نے مزید کہا کہ بلوچ قوم کے مسائل تو ان گنت ہیں لیکن ان مسائل کی حقیقی نمائندگی اور ان کے حل کیلئے کوئی ایسا سیاسی قوت یا پلیٹ فارم نہیں کہ ایک منظم اور قابل حل کوشش کی جاسکے۔ مزید کہا کہ یہاں گراؤنڈ پر چند قوم پرست سیاسی جماعتیں ہیں جو خود کو بلوچ قوم کا نمائندہ پارٹی کہتے ہیں اور بلوچ قوم کی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس اور بہت تلخ ہے۔ یہ قوم پرست پارٹیاں فقط بلیک میلنگ اور تجارتی سیاست تک محدود رہ گئے ہیں، بلوچ کارڈ استعمال کرکے اپنی جیبیں بھرتے ہیں، مراعات اور وزارتیں بٹورتے ہیں اور اپنا کام بنتا باڑ میں جائے جنتا کے کلید پر عمل پیرا ہیں۔
ساتھیوں نے کہا کہ اب طلباء تنظیموں کی سیاسی اور قومی زمہ داریاں بنتی ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے سیاسی تعلیم و تربیت اور کیڈرسازی کے عمل کو تیز کردیں، کیڈرز اور لیڈرز پیدا کریں۔ تاکہ وہ طلباء تنظیوں سے فارغ ہوکر عوام کے درمیان جائیں، ان کو پولیٹسائز کریں، موبلائز کریں اور انھیں متحد اور متحرک کرکے انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کردیں۔ تاکہ وہ ان سیاسی مداریوں، کرپٹ بوسیدہ نظام اور عالمی سامراجی قوتوں کے سامنے سیاسی مزاحمت کا علم بلند کردیں اور اپنی جنگ جیتں کیونکہ عوام ہی طاقت کا چشمہ ہے اور عوامی مزاحمت میں غلامی سے نجات اور آزادی اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔
اجلاس کے آخر میں تنطیمی ساتھیوں کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف تجاویز پر غور و فکر کرنے کے بعد شال میں تنظیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھنے کیلئے مختلف اور اہم فیصلہ جات لیئے گئے۔


