دوشنبه, مارچ 31, 2025

آرٹیکلز

تازہ ترین

شال پاکستانی فورسز کے ہاتھوں نوجوان جبری لاپتہ

شال ( ہمگام نیوز )مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر...

تعلیم پر جبر،اور طلباء دشمن پالیسیاں تحریر: فیصل بلوچ

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں، بلکہ اس سے بھی پہلے، طلبہ دشمن پالیسیاں نہ صرف تشکیل دی جاتی رہی ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ان میں شدت آتی گئی ہے۔ یہ پالیسیاں تعلیمی اداروں کو علمی اور فکری ارتقا کے مراکز بنانے کے بجائے جبر، خوف اور غلامی کے اڈوں میں تبدیل کرنے کا ہتھیار بن چکی ہیں۔ ماضی ان جابرانہ تدابیر کی واضح عکاسی کرتا ہے، اور اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ان پالیسیوں کو مزید سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی...

بلوچ جدوجہد: کچھ مفروضے، کچھ سوالات، نیاد سربازی

کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم قوم پرست اور زمین زاد ہیں اور ہم بلوچستان کی آزادی چاہتے ہیں، لیکن پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم صرف پاکستان کے زیرِ قبضہ بلوچستان کے حصے کو آزاد کرانا چاہتے ہیں اور ایران کے زیرقبضہ بلوچستان اور بلوچ قوم سے، ان کے تکالیف اور مصائب سے دستبردار ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ صرف ایک حصہ ہے، پورا بلوچستان نہیں، تو وہ ہزاروں من گھڑت کہانیاں گھڑنے ہوئے ایسے عذر پیش کرنے لگ جاتے ہیں کہ جی ہم...

قلات میں بی ایل اے کی جان ندریگ حملہ۔صوبدار بلوچ

بی ایل اے مجید برگیڈ کا دوسرا جان ندریگ اور دشمن تو پریشان ہے ہی لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ آزادی کے لبادے میں کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں میں بھی کافی بے چینی پائی جارہی ہے ۔ دشمن اس لئے پریشان ہے کہ انہں اپنے ریاستی مشنری کو استعمال کرتے ہوئے اس حملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے سرکاری وسائل اور انٹیلی جنس اس میں متحرک کرنا پڑرہی ہے پہلے کے فدائی حملوں میں دشمن کو کسی بھی کسی کی معاشی خرچہ اور فوجی و انٹیلی جنس کو حرکت میں لائے بغیر سب معلومات ایک...

بلوچستان نا زِن پُھی ءِ آجوئی ( بلوچستان لاہبریشن چارٹر) نوشتہ کار۔ عمر بلوچ

پٙنچ سال مُست اسے اسٹڈی سرکل سیٹی نودربر اٙس ارّرِفے اگہ نن آجوئی نا جہد اٹ ھوار مرین و بلوچستان آجو مرے گڑا آجو مروکا بلوچستان امٙر مٙرو ۔ ننا امٙرو وطن اٙس مٙرو ۔ ہی گٙل کریٹ کہ گِچینو سوج اس کرے ۔ منتوار ہمو سنگتا تا اٙرا بلوچستان لاھبریشن چارٹر اے جوڑ کرینو۔ نودربر اے پاریٹ دا چارٹر اٹ سرجمی (تفصیل) اٹ لِکّوکے کہ آجو مٙروکا بلوچستان امٙروس مٙرو۔اودے سرسری چارٹر نا اہم ٹِکّاتا بارہ ٹی پاریٹ۔ آجوئی نا دا تحریک ٹی راج ہر وڑانا قربانی تِنِّنگے ۔ ورنا مرے یا کماش ، نرینا مرے یا نِیاڑی غُٹ...

خواتین کا عالمی دن۔ قدیر بلوچ

دنیا میں ہر سال 8 مارچ کو یوم خواتین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آج سے تقریباً 117 سال پہلے یعنی 1908ء کو امریکہ میں یہ دن خواتین کے حقوق کی نسبت سے مقرر کیا گیا تھا ۔ اور بعد میں اس دن کو عالمی وسعت دی گئی ۔ 1977ء میں اقوام متحدہ نے بھی اس کو تسلیم کرلیا ۔ اب یہ دن پورے عالَم میں منایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں کہ اس دن کو عالمی یومِ خواتین کا نام دیا گیا ؟ آپ اگر غور کریں اور دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا...