یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںآواران سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین کی گرفتاری جینوا کنونشن...

آواران سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین کی گرفتاری جینوا کنونشن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، مذمت کرتے ہیں: ایف بی ایم

کوئٹہ(ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ نے اپنے مرکزی مذمتی بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں پاکستانی فوج کی جانب سے خضدار رینج کے لیفٹیننٹ کرنل واجد خان کیانی اور آئی ایس آئی کے مقامی یونٹ کے سربراہ کی جانب سے مشترکہ منصوبے کے تحت مقبوضہ بلوچستان کے شہر آواران کے مضافاتی گاؤں ماشی سے چار بلوچ خواتین سید بی بی، ہارونی ڈن سے بزرگ خاتون بی بی سکینہ، زیلگ  پیراندر سے حمیدہ بنت میر دلبود اور نازل بنت میر درمان کو پاکستانی فوج نے گھروں پر جارحیت کرکے چھاپہ مار کر ان معزز خواتین کو گرفتار کیا، جہاں انہیں اپنے فوجی کیمپس کے اذیت خانوں میں  منتقل کر کے جنیوا کنونشن کے رکن ممالک کے تسلیم شدہ عالمی انسانی حقوق اور بلوچ سماجی،سیاسی روایات کی شدید پامالی کرتے ہوئے انہیں حبس بے جا میں رکھنے کے بعد فوجی اذیت خانوں میں سخت ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد  ان سے اسلحہ برآمدگی کا ڈرامہ رچایا، جس کے بعد بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیرداخلہ کی جانب سے باقاعدہ طور ان پر بوگس ایف آئی آر درج کرنے کی تصدیق کردی گئی، جو کہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔
مرکزی بیان میں مزید کہا گیا کہ، کچھ دن پہلے اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں مقبوضہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی سے 29 نومبر 2019 کو بھاری رقوم کے بدلے اغوا برائے تاوان کے طور13 بلوچ خانہ بدوش خواتین اور بچوں کو پہاڑی چراگاہوں سے شہری آبادی کی جانب مال مویشی سمیت ہجرت کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جنہیں پاکستانی فورسز نے زبردستی حراست میں لے کر جنیوا کنونشن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں فوجی کیمپس کے اذیت خانوں میں منتقل کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں جاری قومی آزادی کی تحریک میں برسر پیکار بلوچ سیاسی کارکنوں اور مزاحمتی جہدکاروں کے عزیز و اقارب کو دباؤ میں لانے کیلئے اجتماعی سزا دینے کیلئے جنگی حکمت عملی کے حربے کے طور پر اسے استعمال کیا جارہاہے۔
پاکستانی ریاست اور اس کی فوج وار کرائمز کا مرتکب ہوکر کچھ عرصہ قبل 7جولائی 2019 کو اسی طرح بلوچ آزادی پسند جہدکاروں کو سرنڈر کروانے کیلئے جنگی حکمت عملی کے طور پر کوہلو کاہان کے درمیانی علاقے نساؤ، جنتلی، سیاہ کوہ، سوریں کہور، سخین اور پڑکئی میں پاکستانی فوجی اہلکاروں نے اپنے  حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ ملک سڑخان سومرانی کے ذریعے سید علی مری کے گھرپر حملہ کرکے 17 لوگ بشمول غیر مسلح خواتین اور معصوم بچوں کو جبری طور پر اغوا کیا تھا۔
بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل درخواست کے باوجود بلوچستان عالمی میڈیا اور عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ سے تاحال محروم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے جنیوا کنونشن کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے آرٹیکل 5 میں کسی بھی خطے میں بسنے والے  قوم  کی نسل کشی ،انسانیت کے خلاف نسلی طور روا رکھے جانے والےجنگی جرائم کا واضح طور ذکر ہے کہ کوئی بھی ریاست کسی بھی قوم کے ساتھ  جرائم کا مرتکب ہوگا تو سیکورٹی کونسل کے ممبر ممالک باقآعدہ وہاں  مداخلت کرسکتے ہیں۔
قابض پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں روا رکھے گئے انہی ریاستی مظالم کے خلاف فری بلوچستان موومنٹ(FBM) نے جاری کردہ اپنے ایک مرکزی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے 10دسمبر کے دن پاکستان و ایران کے زیر قبضہ مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے دنیا بھر میں آگاہی دینے کیلئے سوشل میڈیا کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر#HRViolationsByIranAndPakistan کیمپین چلایا جائیگا۔ دنیا بھر کے تمام انسان دوست تنظیموں ، قوم دوست سیاسی کارکنوں اور پارٹیوں سے اپیل کرتے ہوئے کارکنوں و تمام عہدیداران اور مرکزی ذمہ داروں کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دن قابض ایران و پاکستان کی ریاستی دہشتگردی سے متاثرہ بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کو ہر سطح پر دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے بلوچ قوم کی آواز بن کر ٹوئیٹر کیمپین میں ان کا ساتھ دیکر انسان دوستی و قوم دوستی کا حق اداکریں.

یہ بھی پڑھیں

فیچرز