ہمگام نیوز ڈیسک : اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر میزائل داغے جانے کے جواب میں شام کے فوجی ٹھکانوں پر رات بھر بمباری کی۔
یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنائے جانے کے چند دن بعد ہوا ہے، جس میں اہم ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ “جنگی طیاروں نے رات کے وقت محجہ قصبے میں شامی فوج کے فوجی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ دونوں اطراف کو الگ کرنے والے غیر فوجی علاقے سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔
فوج نے مزید کہا کہ پیر کے روز اس نے بغیر کسی جانی نقصان کے شامی سرزمین سے داغے جانے والے ایک میزائل کا پتہ لگایا۔ جس کے بعد اس کے توپ خانے نے فائرنگ کے ٹھکانے پر گولہ باری کر کے جواب دیا۔ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ’’اسرائیلی فضائی حملوں نے درعا کے شمالی دیہی علاقوں میں محجہ کے علاقے کو آج منگل کی صبح سویرے نشانہ بنایا۔ آبزرویٹری کے مطابق بمباری میں “حکومت کے اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا جن میں اس کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود موجود تھا۔
یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں ایران کے کے دو کمانڈروں سمیت ایرانی پاسداران انقلاب کے سات ارکان مارے گئے تھے۔ یہ حملہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی، غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ تقریباً روزانہ فائرنگ کے تبادلے کے جلو میں کیا گیا۔
اسرائیل نے 1967میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا















