اسلام آباد (ہمگام نیوز) یونیورسٹی آف سرگودھا کے گریجوئیٹ 24 سالہ محمد اعظم کے بھائی، قائداعظم یونیورسٹی ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے طالبعلم 22 سالہ سعید اللہ کو 8 جولائی کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے اُن کے پانچ دوستوں کے سامنے جبراً لاپتہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 3 جولائی کو سی ٹی ڈی اہلکار یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ میں آئے اور ایک پروفیسر کے ذریعے سعید اللہ کو بلا کر پوچھ گچھ کی۔ بعد ازاں 5 جولائی کو یہی اہلکار ہاسٹل میں آئے لیکن سعید اللہ اُس وقت موجود نہیں تھا۔ 8 جولائی کو امتحانات کے بعد جب وہ اپنے گھر کوئٹہ جا رہا تھا تو اُس کی بس کو مبینہ طور پر آٹھ گاڑیوں نے روکا اور اُسے زبردستی ساتھ لے گئے۔
ایس ایچ او نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا، بعد ازاں عدالتی حکم کے باوجود بھی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبسِ بیجا کی درخواست پر جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں چار سماعتیں ہو چکی ہیں، تاہم متعلقہ اداروں نے اب تک کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔ عدالت نے آئندہ سماعت 8 نومبر مقرر کی ہے۔


