جب ہماری قومی جدوجہد کا آغاز ہوا، تو شعوری یا لاشعوری طور پر ہم نے یہ طے کر لیا کہ بندوق ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمارے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ ہر کامیابی کا دروازہ صرف گولی اور دھماکے سے کھلتا ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کسی رہنما نے ہماری توجہ کسی اور پہلو کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی کہ بھائی بندوق کے علاوہ فلاں فلاں پہلوؤں پر بھی ہمیں غور و فکر کرنے اور عمل کرنے کی ضرورت تو اسے فوراً ’’کمزور‘‘ یا ’’سلامی ہونے والا‘‘ اور ”تھک جانے“ کے طعنے دیگ گئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ قوم روس یا امریکہ ہے، جو عسکری طاقت کے بل پر پوری دنیا کو جھکا سکے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ آج روس اور امریکہ جیسی سپر پاورز بھی محض فوجی طاقت سے دنیا کو مسخر نہیں کر سکتیں۔ یہ وہ صدی نہیں جب لشکر کشی سے سلطنتیں قائم ہوتی تھیں۔ اکیسویں صدی کا میدانِ کارزار فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی اور بین الاقوامی تعلقات سے بھی جیتا جاتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ آج کے دور میں بندوق سے زیادہ تعلقات اور مزے کی بات یہ ہے کہ آج کی سپر پاورز جیسے روس، امریکہ اور چین وغیرہ جن کے پاس دنیا کے سب سے جدید ہتھیار، وسیع ترین افواج اور کھربوں ڈالر کے بجٹ ہیں، وہ بھی دن رات سفارتکاری میں مصروف ہیں۔آج کے دور میں طاقتور قومی ریاستوں کو بھی بخوبی یہ احساس ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ تعلقات، ڈپلومیسی اور عالمی حمایت کچھ بھی حاصل کرنے کے لئے بے حد ضروری ہیں مگر نہیں معلوم کہ کمزور اور قومی غلامی کے خلاف نبرد آزما بلوچ قوم کو کون سا الہ دین کا چراغ مل گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں دنیا کے کسی بھی طاقت یا قوم کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے قوت بازو سے ہی ورلڈ آرڈر کو تبدیل کریں گے۔ موجودہ و مروجہ بین الاقوامی سرحدوں کو تبدیل کریں گے اور ہم ایسے وجد میں ہیں کہ جیسے بس گولی چلے گی اور اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سمیت تمام قوتیں خود ہمارے دروازے پر آزادی کا ڈاکیومنٹ دستخط کرکے ہمیں پہنچا دے گی۔
بدقسمتی سے ہم نے سفارتکاری کو کبھی وہ مقام ہی نہیں دیا جو دینا چاہیے۔ دیکھئے، پاکستان کس مہارت سے عالمی سطح پر ہمارے تحریک کی تصویر کو مسخ کر کے پیش کر رہا ہے اور اپنے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے اور اس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ہم آج تک غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔ ہم روز گنتے ہیں کہ ہمارے کوہ نشینوں نے کتنے دشمن فوجی مارے، کتنے دھماکے کئے، کتنی سنیپ چیکنگ کی، کتنے قومی مجرموں کو انجام تک پہنچایا مگر ہم یہ سوچنے کو بھی تیار نہیں کہ ایک مضبوط بیانیے اور مؤثر سفارتکاری کے بغیر یہ تمام تر عظیم قربانیاں رائیگاں جا سکتی ہیں۔
سفارتکاری کی اہمیت کے متعلق ہمارے ”حقیقی اور آزاد“ دانشور بہت پہلے سمجھ چکے تھے اور اس سے متعلق وہ عوامی سطح پر بھی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ پارٹیوں سے التجا کرچکے ہیں کہ سفارتکاری کے متعلق سنجیدگی سے سوچا جائے۔ استاد صباء دشتیاری نے کہا تھا کہ ہمیں ایسا رہنما چاہیے جس بین الاقوامی سطح پر قومی مینڈیٹ دیا جائے کہ وہ ہمارے کیس کو دنیا کے طاقتور ممالک اور بااثر حلقوں تک پہنچا سکے، جب بی این ایف کو سنگت ھیربیار مری کا نام تجویز کیا گیا کہ انہیں مینڈیٹ دیا جائے تو اس نے میڈیا میں اس چیز کا اظہار کیا کہ وہ اس کام میں مہارت رکھتا ہے اور عملاً یہ کردار ادا بھی کر رہا ہے۔ مگر یہ کام انفرادی نہیں، قومی مینڈیٹ اور اجتماعی یکجہتی کا متقاضی ہے سو ان کو تمام بلوچ پارٹیاں اپنا ”بین الاقوامی نمائندہ“ منتخب کریں تاکہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے یہ کام سرانجام دے سکے۔ حیربیار خود بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ میں نہ سہی،میرا پارٹی نہ سہی مگر یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے منتشر قوت کو اکٹھا کریں جو پارٹیوں اور گروھوں میں منقسم ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہم آواز ہوکر اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں تاکہ ہمیں نظر انداز کرنا دنیا کے لئے مشکل بن جائے اور نیز صرف اندرونی اتحاد نہیں بلکہ پاکستان اور ایران کے اندر باقی مظلوم اقوام کے ساتھ بھی اتحاد قائم کریں تاکہ ہماری آواز اور توانا ہوسکے مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی سیاسی نقاط پر بات چیت کرنا اور غور و فکر کرنا تو کجا سننے کو بھی تیار نہیں ہے۔ ہم آج تک گولی اور دھماکوں کے رومانس میں مبتلا ہوکر سوچتے ہیں کہ ہم شاید روس اور امریکہ سے بھی زیادہ طاقتور ہیں اور ہمیں نہ دنیا کی ضرورت ہے نہ ہی سفارتی و بین الاقوامی تعلقات کی۔
یہ اکیسویں صدی ہے۔ آج بندوق کی گھن گرج کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات اور سفارتکاری بھی جنگ جیتنے کے لئے اتنی ہی ضروری ہیں جتنا خود ”گولی“۔ اگر ہم اس پہلو کو مسلسل نظرانداز کرتے رہے، تو کل شاید ہمارے تحریک کا نام بھی ”ناکام تحریکوں کی تاریخ“ کے حاشیوں میں ملے گا۔ اگر ہم نے اپنا بیانیہ موثر طریقے سے دنیا تک پہنچانے میں سنجیدگی نہ دکھائی اور اپنے صفوں کو مضبوط نہ کیا، تو میدان میں جیتی گئی جنگ بھی ہمیں شکست سے دوچار کرسکتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم سکندر اعظم، چنگیز خان، اور چاکر و گوھرام کے دور سے نکل کر آج کی دنیا کی سفارتی اور سیاسی حقیقتوں کے مطابق سوچیں اور عمل کریں۔















