تہران (ہمگام نیوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہلاکتیں کی گئی ہیں، جنہیں چھپانے کے لیے 8 جنوری سے انٹرنیٹ بندش نافذ ہے۔ تنظیم کے مطابق مصدقہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ قتل و غارت بے مثال شدت کے ساتھ کی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دیا ہے کہ موجودہ اور ماضی کے احتجاج میں ہونے والے جرائم پر مسلسل اور منظم استثنا (Impunity) نے ایرانی حکام کو مزید تشدد پر دلیر کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن میں زیادہ تر پُرامن مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا اور سرکاری اعتراف کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 2,000 تک پہنچ چکی ہے۔

ایمنسٹی کی سیکریٹری جنرل اگنیس کلامار نے کہا خونریزی اور استثنا کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ 8 جنوری کے بعد قتل اور جبر کی شدت اور پیمانہ ایران کی اپنی بدترین انسانی حقوق کی تاریخ میں بھی بے مثال ہے۔ عالمی برادری کو فوری سفارتی اقدام کرنا ہوگا تاکہ مزید قتلِ عام روکا جا سکے۔

تنظیم کے مطابق سکیورٹی فورسز جن میں اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC)، اس کی بسیج یونٹس، پولیس (فراجا) اور سادہ لباس اہلکار شامل ہیں نے سڑکوں اور رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے رائفلوں اور دھاتی چھروں والی شاٹ گنز سے فائرنگ کی، اکثر مظاہرین کے سروں اور دھڑ کو نشانہ بنایا گیا۔ اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں جبکہ خاندان لاپتہ افراد کی تلاش میں مردہ خانوں کے باہر بھٹک رہے ہیں۔

ایمنسٹی نے 10 شہروں میں درجنوں ویڈیوز اور تصاویر کا تجزیہ کیا، آزاد پیتھالوجسٹ سے زخمیوں کی نوعیت پر مشاورت کی، اور ایران کے اندر و باہر درجنوں عینی شاہدین، صحافیوں اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے معلومات حاصل کیں۔ شواہد کے مطابق 8 جنوری کی شام سے ملک گیر سطح پر مہلک طاقت کے غیر قانونی استعمال میں مربوط اضافہ ہوا۔

کم از کم دو ویڈیوز میں سکیورٹی اہلکاروں کو غیر مسلح، بھاگتے ہوئے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کرتے دیکھا گیا، جو کسی بھی طور خطرہ نہیں تھے۔ دیگر فوٹیج میں سر اور آنکھوں پر گولیوں کے زخم، سڑکوں پر بے حرکت لاشیں اور اسپتالوں کے فرش پر شدید زخمی افراد دکھائی دیتے ہیں۔

تہران کے ایک صحافی نے ایمنسٹی کو بتایا دنیا کو بتائیں کہ ایران میں ناقابلِ بیان جرائم ہو رہے ہیں اگر کچھ نہ کیا گیا تو وہ ملک کو قبرستان بنا دیں گے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مربوط اقدامات کریں، جن میں یو این ہیومن رائٹس کونسل اور سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس بلانا شامل ہے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو معاملہ بھیجنے اور بین الاقوامی انصاف کے طریقۂ کار قائم کرنے پر غور کیا جائے، تاکہ بین الاقوامی قانون کے تحت جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب ہو سکے۔

آخر میں ایمنسٹی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی فورسز کو غیر قانونی طاقت کے استعمال سے فوری طور پر روکا جائے اور مکمل انٹرنیٹ بحال کیا جائے تاکہ شواہد کے ضیاع اور مزید خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔