یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںایرانی اور پاکستانی افواج بلوچستان کی سرحدوں پر منشیات کی اسمگلنگ میں...

ایرانی اور پاکستانی افواج بلوچستان کی سرحدوں پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث

زاہدان (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایران کے انقلابی گارڈز قومی سلامتی کے لئے گشت کے بہانے بلوچستان کی سرحدی علاقوں سے سراوان میں منشیات لے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سراوان میں انقلابی محافظوں کا کمانڈر اپنے ماتحت دستوں اور فورسز کو بلوچستان کی سرحدوں سے سراوان میں منشیات پہنچانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

رسد بلوچستان (بلوچستان آبزرویٹری) نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ سراوان میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر کرنل احمد مالدار اپنے ماتحت فورسز کو بلوچستان کی زیرو پوائنٹ سے سراوان میں منشیات لے جانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ کرنل پوڈینہ کی منتقلی کے بعد کرنل مالدار کو ان کی جگہ سراوان کور کے کمانڈر کے طور پر طعینات کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی مشقوں کے بہانے گاڑیاں ہر روز مقبوضہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے منشیات کی اسمگلنگ کررہی ہیں۔

خبر رساں ادارے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی آر جی سی سراوان جلیق اور کالاگن کی متعدد گاڑیوں نے سرحد عبور کی۔ سیکیورٹی مشقوں کے بہانے اور روزانہ کی بنیاد پر ایرانی مقبوضہ بلوچستان (آئی او بی) کے شہر سراوان میں منشیات لے جاتے ہیں۔

ایک اور ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بنایا کہ آئی آر جی سی بارڈر زیرو پوائنٹ سے سراوان شہر میں منشیات لے جانے کے لئے لاکھوں تمن بطور رشوت وصول کرتے ہیں جو ان کے سربراہ کے براہ راست ہم آہنگی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کی سرحدوں کی بندش اور سرحد پر باڑ لگانے کے بعد انقلابی گارڈ آسانی سے منشیات لے جاتے ہیں۔

آئی آر جی سی کا “رزاق پلان ” جو بلوچ فیول کیرئیرز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا ، کو دو ماہ سے بھی کم عرصے میں فراموش کردیا گیا ہے اور بلوچستان کی سرحد مکمل طور پر بلوچ عوام کے لئے بند کردی گئی ہے۔

تاہم، آئی آر جی سی اور اس کی افواج اب بلوچستان کے بارڈر پر منشیات کے آمد و رفت کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی مصنوعی سرحد کے دونوں اطراف سے قابض ایرانی اور پاکستانی افواج پر پہلے بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث رہنے کے الزام لگتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز