تل ابیب (ہمگام نیوز ) ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام جنگ کے اثرات بگڑنے سے پہلے اس کا سیاسی حل تلاش کرنے پر غور کر رہے ہیں
رائٹرز کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے اندر ایران کے ساتھ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ یاد رہے فوجی آپریشن اپنے دسویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔
نظام کا خاتمہ واحد مقصد نہیں واشنگٹن پوسٹ کے مطابق متعدد اعلیٰ اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح تصور نہ ہونے اور اس کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان نے خطے اور عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے اندرونی اندازوں سے اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی فضائی بمباری کی مہم اپنے بنیادی فوجی اہداف حاصل کرنے کے قریب ہے جن میں ایران کے بقیہ ایٹمی پروگرام کی تباہی، بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر، اسلحہ سازی کی تنصیبات اور ایرانی فوجی اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت کو کمزور کرنا شامل ہے۔
بعض اسرائیلی حکام جنگ کے نتائج مزید سنگین ہونے سے پہلے سیاسی راستہ تلاش کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب خطے کے ممالک پر ایران کے میزائل حملے جاری ہیں اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوجی منصوبہ بندی سے باخبر ایک اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ضروری طور پر جنگ کا واحد مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً ہم نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن یہ جنگ ختم ہونے کا واحد منظرنامہ نہیں ہے۔ اہم فوجی اہداف کی تباہی کے بعد اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہو گا۔
عہدیدار نے کہا کہ شاید ایران ہتھیار نہ ڈالے لیکن وہ امریکی شرائط کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کے اشارے دے سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مسلسل مکمل فتح کی بات بھی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے امکانات اس وقت مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں جب یہ اعلان کیا گیا کہ 28 فروری کو فضائی حملے میں مارے جانے والے سابق ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ مجتبی خامنہ ای پاسدارانِ انقلاب کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں بعض فوجی منصوبہ سازوں کو خدشہ ہے کہ اگر حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کا حکم دیا گیا تو جنگ لبنان سمیت دیگر محاذوں تک پھیل سکتی ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے اندر سرحد کے قریب حزب اللہ کی ’’ رضوان فورس‘‘ کے باقیات کے خلاف محدود کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل بڑے پیمانے پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا تاکہ 1982 کے لبنان حملے کے تجربے سے بچا جا سکے جو بیروت تک پہنچ گیا تھا اور جسے بعد میں بہت سے اسرائیلیوں نے تزویراتی غلطی قرار دیا تھا۔ اسی دوران عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل لبنانی حکام بشمول صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام کے ساتھ رابطے کے لیے تیار ہے تاکہ لبنانی محاذ پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا سکے۔
ہفتے یا مہینے؟ یاد رہے ایران نے پیر کو ایک مربہ پھر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ ان کا ملک مکمل طور پر تیار ہے اور ہمارے پاس بھی بہت سے سرپرائزز موجود ہیں۔ ادھر اخبار “یدیعوت احرونوت” کے مطابق اسرائیلی فوج کے اندازوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران میں اہداف کا حصول چند ہفتے لے سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو کہا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ چھ ماہ تک تنازع جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت اور تیاری رکھتے ہیں۔















