تہران (ہمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، بدھ 18 مارچ 2026 کو ایران کی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی میزان نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک شہری، جس کی شناخت “کوروش کیوانی” کے نام سے کی گئی ہے، کو سحر کے وقت “حساس مقامات کی تصاویر اور معلومات موساد کے افسران کو بھیجنے” کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، کوروش کیوانی کو اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران 16 جون 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں “چھ یورپی ممالک اور تل ابیب میں موساد کے عناصر نے تربیت دی” اور وہ اپنی سرگرمیوں کے عوض رقوم بھی وصول کرتے رہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ایران میں سزائے موت کو اکثر مخالفین کے خلاف دباؤ ڈالنے یا انتقامی کارروائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کوروش کیوانی کی پھانسی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی، جو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے، اور غلامرضا سلیمانی، جو بسیج کے سربراہ تھے، کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق کی گئی تھی۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے ایران پر ملزمان کے حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق، ایرانی حکومت بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے ذریعے مخالفین اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔