لندن (ہمگام نیوز) 20 جولائی کو بلوچ رہنما تاج محمد سرپرہ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ یہ مظاہرہ برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے سامنے صالحہ مری کے اہلِ خانہ، بلوچ ڈائاسپورہ نے منعقد کیا گیا۔ جس میں افغان ہوم راہٹس کارکناں و سندھی آزادی پسندوں نے شرکت کی۔
مظاہرے میں شرکاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں خواتین، نوجوان اور بزرگ افراد شامل تھے۔ مظاہرین نے لاپتہ افراد کی تصاویر، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف، انسانی حقوق اور بازیابی کے مطالبات درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ، افغان اور سندھی مقررین نے عالمی برادری، برطانوی حکومت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان پر پاکستان اور ایران کے قبضے، انسانی حقوق کی پامالی اور جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی کارکن، طلباء اور عام شہریوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، جس پر عالمی خاموشی تشویشناک ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تاج محمد سرپرہ سمیت تمام لاپتہ بلوچ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر عالمی اقدامات کیے جائیں۔
یہ مظاہرہ دن 2 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔


