یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچستان خطے کا اہم اور فوری حل طلب مسلہ ہے : بی...

بلوچستان خطے کا اہم اور فوری حل طلب مسلہ ہے : بی این ایف

کوئٹہ (ہمگام  نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر میں تسلسل کے ساتھ جاری فوجی آپریشنوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں ریاستی فورسزبلوچستان میں اپنی غیر فطری وجود کو مستحکم کرنے اور لوٹ مار جاری رکھنے کے لئے بلوچ عوام پر ریاستی طاقت کابے تحاشا استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین دنوں سے آواران کے مختلف علاقے فوجی محاصرے میں ہیں، محصور علاقوں میں اب تک سینکڑوں گھروں کو لوٹ کر جلایا جا چکا ہے، جن میں بی ایس او آزاد اور بی این ایم کے رہنماؤ ں سمیت سینکڑوں لوگوں کے گھر شامل ہیں ۔آج تیسرے روز آپریشن کے دائرے میں وسعت لاتے ہوئے کولواہ اور بالگتر کے علاقوں تک پھیلایا گیا ہے۔ دورانِ آپریشن بالگتر کے علاقے گڈگی میں متعدد گھروں کو لوٹنے و جلانے کے بعد چار لوگوں کو فورسز نے اغواء کر لیا، جبکہ آواران میں جاری آپریشن کے تیسرے روز فورسز نے سینکڑوں گھروں کو جلانے کے بعد دو نوجوانوں کو اُٹھا کر لاپتہ کردیا۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں ریاستی مشینری بلوچ عوام کے خلاف متحرک ہو چکی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے اُٹھا کر لاپتہ کرنا و ان کے لاشوں کی برآمدگی روز کا معمول بن چکا ہے۔ رواں مہینے کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں لوگوں کو فورسز گرفتاری کے بعد لاپتہ کر چکے ہیں۔جبکہ اسی مہینے بلوچستان و کراچی سے متعدد لاپتہ بلوچ فرزندان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں کئی عرصہ پہلے بلوچستان کے مختلف علاقو ں سے فورسز نے اغواء کیا تھا۔ بی این ایف کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جاری کاروائیوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے فورسز نے خود ساختہ نیشنل ایکشن پلان و تحفظ پاکستان آرڈیننس جیسے قوانین کا سہارا لے رہی ہے، تاکہ انہی کی آڑ میں بلوچستان میں جاری کاروائیوں کو پاکستا ن کا اندرونی مسئلہ ثابت کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی جس پر پاکستان نے بزور طاقت قبضہ کیا ہے، اسی قبضے کے خلاف بلوچ عوام پچھلے سات دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں۔ اسی لئے دنیا کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ خطے کا اہم اور فوری حل طلب مسئلہ ہے۔بی این ایف نے چائنا سمیت بلوچستان میں پاکستان کے بھروسے سرمایہ کاری کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر اپنی سرمایہ کاری کی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ کیوں کہ آزاد بلوچ ریاست کے قیام سے قبل بلوچستان میں سرمایہ کار کمپنیوں کے خلاف بلوچ عوام جدوجہد کرتے رہیں گے

یہ بھی پڑھیں

فیچرز