شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںبلوچستان: ملا رزاق کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ماورائے...

بلوچستان: ملا رزاق کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ بی وائی سی

شال (ہمگام نیوز) ملا رزاق ولد داد محمد، سکنہ نیوانو زامران، کو ریاستی پشت پناہی حاصل ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ بعد ازاں ان کی لاش سیمسواری کور کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، ملا رزاق کو 14 جنوری 2026 کو نیوانو زامران میں ان کی رہائش گاہ سے مسلح افراد نے بغیر کسی قانونی وارنٹ یا وضاحت کے حراست میں لے لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ افراد ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ صرف ایک دن بعد، 15 جنوری 2026 کو، ملا رزاق کو قتل کر دیا گیا۔

بعد میں ان کی لاش سیمسواری کور میں پھینکی گئی، جس پر شدید تشدد اور جسمانی بربریت کے واضح نشانات موجود تھے۔

ملا رزاق ایک عام شہری تھے جو اپنے خاندان کی کفالت کر رہے تھے۔ ان کا قتل حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بے لگام ریاستی بے حسابی کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوچستان میں شہریوں کے ساتھ ساتھ طلبہ، اساتذہ، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور دیگر سماجی کارکنوں کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے کے سماجی تانے بانے کو تباہ کر رہا ہے بلکہ عوام میں خوف، عدم تحفظ اور شدید نفسیاتی صدمے کو بھی جنم دے رہا ہے۔

ان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری بین الاقوامی توجہ اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر احتساب ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز