شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںبلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،ریاستی جبر، مرکزی قیادت کی طویل...

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،ریاستی جبر، مرکزی قیادت کی طویل گمشدگی اور خواتیں کی ماورائے آئین گرفتاریوں پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

شال (ہمگام نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے تسلسل کو انسانی حقوق کی بدترین اور منظم پامالی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ جبری گمشدگیوں کا غیر انسانی حربہ نازی جرمنی کی فسطائیت سے لے کر لاطینی امریکہ کی فوجی آمریتوں تک صرف ان ریاستوں کا شیوہ رہا ہے جو سیاسی اختلاف کو منطق اور دلیل کے بجائے جبر سے کچلنے کی پالیسی پر گامزن رہی ہیں۔ بلوچستان میں ۱۹۷۰ کی دہائی سے اسد مینگل اور احمد شاہ کرد کی گمشدگی سے شروع ہونے والا یہ سیاہ باب آج ایک باقاعدہ ریاستی پیٹرن کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو کہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے ساتھ ساتھ ملکی آئین کی روح کے بھی منافی ہے۔

پارٹی قیادت اپنے مرکزی رہنماؤں کی طویل گمشدگی پر شدید رنج و غم اور غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو آٹھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جنہیں ۲۵ مئی ۲۰۲۵ کو کوئٹہ سے کراچی سفر کے دوران خضدار کے مقام پر مسافر کوچ سے اتار کر لاپتہ کیا گیا۔ اسی طرح، ۱۰ اگست ۲۰۲۵ کو مرکزی رہنما ثنا بلوچ کو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بورڈنگ کا عمل مکمل کرنے کے بعد ایف آئی اے اہلکاروں کی جانب سے روکا گیا اور پھر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ان رہنماؤں کے مقامِ حراست اور سلامتی کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی ریاست کے عدالتی اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ این ڈی پی سمجھتی ہے کہ مرکزی قیادت کو نشانہ بنانا دراصل پُرامن سیاسی جدوجہد کے راستے مسدود کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی یہ پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ریاست فی الفور اپنی ان غیر آئینی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور تمام لاپتہ سیاسی کارکنوں، طلبہ اور بالخصوص نسریں بلوچ، فرزانہ زہری، خیر النسہ، رحیمہ بلوچ اور فاطمہ بلوچ سمیت تمام زیرِ حراست خواتین کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کے اس سلسلے کو مستقل بنیادوں پر بند کر کے اس میں ملوث عناصر کا محاسبہ کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ریاست پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقِ زندگی اور تحفظ کی ضمانت دے، کیونکہ جبر اور خوف کی بنیاد پر کبھی بھی پائیدار استحکام یا سیاسی حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز