سراوان (ہمگام نیوز)موصولہ اطلاعات کے مطابق، قابض ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے محکمہ تعلیم میں مداخلت کرتے ہوئے بلوچستان کے بعض اسکولوں میں طلباء کو زبردستی بسیجی وردی خریدنے پر مجبور کیا ہے، جس پر والدین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک والدین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سراوان کی تحصیل کے گاؤں “ہوشک” کے اسکول انتظامیہ نے طلباء کو حکم دیا ہے کہ وہ بسیجی فوجی لباس اور پلاسٹک کی بندوقیں خریدیں تاکہ “ہفتۂ بسیج” کے نام سے ہونے والے نمائشی جلوس میں حصہ لے سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر طالبعلم کے لیے ایک فوجی لباس کی قیمت کم از کم ۸ ملین ریال ہے، جو ہم جیسے غریب لوگوں کے لیے — جو رات کی روٹی کے بھی محتاج ہیں — برداشت سے باہر ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ اقدام قابض ایرانی حکومت کی ایک کوشش ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہمارے بچے سپاہ پاسداران اور بسیج کے ہم خیال اور حامی ہیں، جبکہ درحقیقت یہ سب زبردستی اور جبر کے تحت کیا جا رہا ہے۔


