ھمگام اداریہ

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک دن ہے، مگر حقیقت میں یہ صدیوں پر محیط اس جدوجہد کی یادگار ہے جو خواتین نے برابری، وقار اور انصاف کے لیے لڑی ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے مختلف شکلوں میں مزاحمت کی، لیکن اگر کسی خطے کی خواتین کی جدوجہد کو خاص طور پر دیکھا جائے تو بلوچ خواتین کی تاریخ اس حوالے سے ایک منفرد مثال پیش کرتی ہے۔ یہ تاریخ صرف مظلومیت کی نہیں بلکہ مزاحمت، قیادت اور قربانی کی تاریخ ہے۔

آج مغرب خواتین کی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ عورتوں کو جتنی آزادی یورپ اور امریکہ میں حاصل ہے شاید دنیا میں کہیں نہیں۔ لیکن مغربی معاشروں کو اپنی تاریخ کے سیاہ ابواب کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ یورپ کے تاریک دور میں خواتین کو معمولی الزامات پر “ڈائن” قرار دے کر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس بلوچ سماج میں عورت کو صدیوں سے عزت اور وقار کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ بلوچ روایت میں عورت محض گھر کی زینت نہیں بلکہ سماج کی رہنما، قبیلے کی محافظ اور اجتماعی شعور کی نمائندہ رہی ہے۔

بلوچستان کے سماجی اور سیاسی حالات نے بلوچ خواتین کو محض گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے نہیں دیا بلکہ انہیں حالات کے ساتھ کھڑا ہونے اور اپنی قوم کے ساتھ جدوجہد کرنے پر مجبور کیا۔ گزشتہ چند دہائیوں میں بلوچستان میں جاری سیاسی کشیدگی، جبری گمشدگیوں، عسکری آپریشنز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے بلوچ خواتین کو اس تحریک کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔ آج بلوچ خواتین صرف احتجاجی ریلیوں میں شریک نہیں ہوتیں بلکہ وہ سیاسی شعور کی نمائندہ اور اجتماعی مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔

بلوچ سماج میں خواتین کا کردار محض آج کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ اگر بلوچ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں خواتین نے قیادت، بہادری اور قربانی کی روشن مثالیں قائم کیں۔ مثال کے طور پر بی بی بانڑی بلوچ کو بلوچ تاریخ کی پہلی خواتین جنگجوؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق جب میر چاکر خان رند کی فوج کو ایک طاقتور دشمن کا سامنا تھا اور حالات شکست کی طرف جا رہے تھے تو بی بی بانڑی نے میدانِ جنگ میں اتر کر بلوچ لشکر کو حوصلہ دیا اور انہیں لڑنے کی ترغیب دی۔ اس واقعے نے بلوچ تاریخ میں عورت کے کردار کو ایک نئی جہت دی اور یہ ثابت کیا کہ بلوچ عورت صرف گھریلو زندگی تک محدود نہیں بلکہ وہ قیادت اور فیصلہ سازی کی قوت بھی رکھتی ہے۔

اسی طرح گنج جان بی بی، جو میر نصیر خان نوری اور خداداد خان کی والدہ تھیں، ایک ایسی شخصیت تھیں جنہوں نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ریاستی معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ سیاسی بصیرت اور فیصلہ سازی میں غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔ بلوچ تاریخ میں ایسے کردار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بلوچ سماج میں خواتین ہمیشہ سے قیادت اور اجتماعی فیصلوں کا حصہ رہی ہیں۔

ماہی بیبو کی مثال بھی بلوچ تاریخ میں نمایاں ہے جنہوں نے دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ اسی طرح بی بی حانی سیمگ جیسے کردار بھی بلوچ ثقافت اور تاریخ میں عورت کی طاقت اور وفاداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مثالیں اس تصور کو غلط ثابت کرتی ہیں کہ بلوچ خواتین ہمیشہ سے صرف گھریلو دائرے تک محدود رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سماجی، سیاسی اور حتیٰ کہ جنگی محاذوں پر بھی نمایاں رہی ہیں۔

جدید دور میں بلوچ خواتین کی جدوجہد نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ اب ان کی مزاحمت صرف جنگی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور سیاسی آزادی کے مطالبات تک پھیل چکی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بلوچ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی موجودگی نے دنیا کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرائی ہے۔ لاپتہ افراد کی مائیں اپنے بیٹوں کی تلاش میں سالہا سال سے احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کا دکھ صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ انہوں نے اپنے غم کو طاقت میں بدل دیا ہے اور یہی طاقت بلوچ مزاحمت کی بنیاد بن گئی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں بلوچ خواتین کی سیاسی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کی تحریکوں اور سماجی پلیٹ فارمز پر بلوچ خواتین کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بلوچ خواتین نے نہ صرف اپنے حقوق کی بات کی بلکہ پوری قوم کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی تناظر میں موجودہ دور کی چند نمایاں بلوچ خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ آج بلوچ قومی شعور کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھری ہیں۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جس جرات اور استقامت کے ساتھ آواز بلند کی ہے وہ بلوچ خواتین کی نئی نسل کے لیے مثال بن چکی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ عالمی سطح پر بھی بلوچ مسئلے کو اجاگر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ حقوق کی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں وہ گزشتہ ایک سال سے پابندِ سلاسل ہیں، مگر قید و بند کی یہ صعوبتیں بھی ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں۔

اسی طرح مہرنگ بلوچ ،بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور حوران بلوچ جیسے نام بھی آج بلوچ خواتین کی مزاحمتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان خواتین نے نہ صرف احتجاجی تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا بلکہ بلوچ نوجوان نسل میں شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ بلوچ خواتین اب صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ وہ خود تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچ خواتین کو اپنی جدوجہد میں دوہری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف انہیں ریاستی جبر اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف سماج کے اندر موجود قدامت پسندانہ سوچ بھی ان کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بلوچ خواتین نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے خاموش رہنے والی نہیں ہیں۔ ان کی جدوجہد نے بلوچ سماج میں خواتین کے کردار کے بارے میں روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو دنیا کی ترقی میں خواتین کا کردار بنیادی رہا ہے۔ کئی مورخین کا کہنا ہے کہ ابتدائی دور میں زراعت کی ابتدا بھی خواتین نے کی تھی جس نے انسانی تہذیب کی بنیاد رکھی۔ اس کے باوجود تاریخ کو زیادہ تر مردوں کے زاویے سے لکھا گیا اور خواتین کے کردار کو نظر انداز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی باصلاحیت خواتین تاریخ کے صفحات سے غائب ہو گئیں۔

بلوچ خواتین کی موجودہ تحریک اس تاریخی ناانصافی کے خلاف بھی ایک ردعمل ہے۔ وہ نہ صرف اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں بلکہ وہ یہ بھی ثابت کر رہی ہیں کہ سماج کی ترقی خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اپنی آبادی کے نصف حصے کو نظر انداز کر کے ترقی نہیں کر سکتی۔ بلوچ سماج بھی اسی حقیقت کو آہستہ آہستہ تسلیم کر رہا ہے۔

آج جب ہم عالمی یومِ خواتین کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف ایک علامتی دن نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس دن کو بلوچ خواتین کی قربانیوں اور جدوجہد کو سمجھنے کا موقع بھی سمجھنا چاہیے۔ بلوچستان کی خواتین نے جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے وہ صرف بلوچ قوم کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچ خواتین کی جدوجہد صرف صنفی برابری کی جدوجہد نہیں بلکہ یہ ایک قوم کی اجتماعی بقا، وقار اور شناخت کی جدوجہد بھی ہے۔ یہ خواتین اپنے دکھ، قربانی اور حوصلے کے ذریعے ایک ایسی تاریخ لکھ رہی ہیں جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ بلوچستان کی سرزمین نے ہمیشہ بہادر مرد پیدا کیے ہیں، لیکن اس سرزمین کی اصل طاقت وہ خواتین ہیں جو ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کو حوصلہ دیتی ہیں، وہ بہنیں جو انصاف کے لیے آواز بلند کرتی ہیں اور وہ بیٹیاں جو خوف کے ماحول میں بھی سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ یہی بلوچ خواتین کی اصل پہچان ہے اور یہی ان کی جد

وجہد کا پیغام بھی۔