- پاکستانی میڈیا، سرکاری ادارے اور حکام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندی عائد کر دی ہے۔ درحقیقت، پاکستانی فوج اور ان کے کرپٹ سیاسی حلیفوں نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کو گمراہ کیا اور اسے یہ یقین دلا دیا کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بی ایل اے ایک منظم قومی دفاعی ادارہ ہے، جو بلوچ عوام کے حقِ آزادی اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی انسانی حقوق کے اصول ہر قوم کو اپنے تحفظ، سلامتی اور بقا کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1 واضح طور پر حقِ آزادی کو تسلیم کرتا ہے، جس کے مطابق ہر قوم کو اپنی سیاسی حیثیت کا آزادانہ تعین کرنے اور اپنے معاشی، سماجی اور ثقافتی ارتقاء کو یقینی بنانے کا حق حاصل ہے۔
چارٹر کا آرٹیکل 51 اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کسی بھی قوم کو مسلح حملے یا بیرونی تسلط کی صورت میں اپنے دفاع کا انفرادی یا اجتماعی حق حاصل ہے۔
جنرل اسمبلی کی قرارداد 1514 (1960) تمام نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور ہر قوم کے حقِ خود ارادیت کو ایک لازمی اصول کے طور پر بیان کرتی ہے۔
اسی اصول کے تحت، تقریباً 70 ملین بلوچ عوام، جو طویل عرصے سے اپنی سرزمین اور وسائل پر بیرونی قبضے کا سامنا کر رہے ہیں، اس حق کے حقدار ہیں کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک منظم دفاعی ادارہ قائم کریں۔ اسی مقصد کے پیش نظر بلوچ سیاسی قیادت نے بی ایل اے کا قیام عمل میں لایا، جو اپنی تمام سرگرمیوں میں سیاسی قیادت کے ماتحت رہتے ہوئے قابض قوتوں کے خلاف اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع میں سرگرم ہے۔
ہم عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قومی مسئلے کا غیر جانبدارانہ اور شواہد پر مبنی مطالعہ کرے، اور اپنے مؤقف کو ریاستی بیانیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر تشکیل دے۔ ماضی میں یک طرفہ ریاستی موقف کو قبول کرنے کے باعث بلوچ عوام کے نقطۂ نظر اور ان کے جائز حقوق کو نظر انداز کیا گیا، جو بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بی ایل اے پر پابندی لگانے کے بجائے، اسے ایک قانونی قومی دفاعی ادارے کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بلوچستان میں ایک سیکولر، جمہوری اور پرامن ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ یہ کوشش نہ صرف بلوچ عوام کے حقِ خود ارادیت کی تکمیل ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا باعث بھی بنے گی۔
ہم توقع کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی ادارے بلوچ عوام کے حقِ آزادی اور قومی سلامتی کو تسلیم کریں گے اور اس مقصد کے حصول میں اپنی عملی اور سیاسی حمایت فراہم کریں گے۔















