یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچ سرزمین پر تاریخ کی بدترین نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔بی...

بلوچ سرزمین پر تاریخ کی بدترین نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔بی ایس ایف

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ آواران مشکے اور گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں سول آبادیوں کا محاصرہ چھاپے اور گھروں کو نذر آتش کرنے کی کاروائیان اور اسپلنجی میں تین بلوچ فرزندوں کا اغواء میر عبدالنبی بنگلزئی کے گھر پر دھاوا اور ان کے زرعی ٹیوب ویل کو نقصان دینے کے مکروہ ہتکھنڈے قابل مذمت ہے ترجمان نے کہاکہ مشکے آواران اسپلنجی اور سبی کے علاقوں میں ریاست نے بربریت کی انتہا ء کردی ہے آزادی کے ساتھ بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے بلوچ نوجوانوں اور بزرگوں کو اغواء کیا جارہاہے گزشتہ دنوں مشکے میں ریاستی فورسز نے مختلف شہری اور دیہی علاقوں پر دھاوا بول کر نہ صرف سول آبادی کو حراساں کیا بلکہ ان کے گھروں پر آتش گیر مادے چھڑک کر انہیں آگ لگا دیا یہ سلسلہ اب بھی مشکے آواران اور گردو نواح میں شدت کے ساتھ جاری ہے ترجمان نے کہاکہ ریاستی فورسز نے جارحیت کی تمام حدیں پار کرچکی بچوں بزرگوں اور خواتین کو بھی معاف نہیں کیا جارہاہے آزادی کے جاری جدوجہد کو کچلنے میں ناکامی کے بعد ریاست اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے عام بلوچ آبادیوں پر اپنا غصہ نکال رہی ہے یہ ان کی زہنی حواس باختگی اور تناؤ کی عکاس ہے ریاست چین کی پشت پنائی کے باوجود بلوچ آزادی کی تحریک کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکاہے اسلئے کاؤنٹر انسر جنسی پالیسیوں میں شدت لاکر نہتے لوگوں کو نشانہ بنارہاہے ظلم و جبر کے تمام حربوں کے ساتھ نہ صرف بلوچ فرزندوں کو اغواء اور شہید کیا جارہاہے بلکہ عام بلوچ عوام پر تشدد کیاجارہا ہیے ان کی جائیدادیں اور املاک کو نذر آتش کیاجا رہاہے لیکن ریاست جس وحشیانہ اندازکی کاروائیاں کررہے ہیں ان کا مجرمانہ نقطہ نظر یہ ہوگا کہ وہ بلوچ قوم کے حوصلوں کو کمزور کرسکے گا لیکن اس طرح کے ہتکھنڈوں سے بلوچ عوام کے عزائم کمزور نہیں ہوں گے بلوچ عوام جان چکاہے کہ ریاست بلوچ قوم کی سلب کردہ آزادی کو آسانی سے واپس نہیں کریگی اس کے لئے تکالیف اور قربانیاں کا ناگزیر طورپر سامنا رہے گا بلوچ قوم کو1948ایک ظلم اور چیلنج کا سامنا ہے لیکن بلوچ قوم نے اپنی شناخت آزادی اور تشخص پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے جدوجہد کو ترجیح دی ہے آج بھی بلوچ سرزمین پر تاریخ کی بدترین نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے ریاست بلوچ عوام پرعرصہ حیات تنگ کرتے ہوئے بلوچ قوم کو آزادی سے دستبرداری کے لئے تمام حربے اور فارمولے استعمال کئے ہیں لیکن بلوچ اپنی جان کی قیمت پر آزادی کے تحریک کے ساتھ ہے ترجمان نے ریاستی وزیر داخلہ کے بیان کو گمراہ کن اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ بلوچ قوم اسلام مخالف نہیں بلکہ اپنی آزادی اورشناخت کے لئے جدوجہد کررہاہے ریاست اپنی بلجبرتسلط کو اسلام کا لبادہ نہ اوڑھیں مسلمان ایک قوم نہیں ایک مذہب کا نام ہے اس کا قوم کے تعریف سے کوئی تعلق نہیں بنگلہ دیش میں بنگلہ دیشی مسلمانوں کا بھی اسلام کے نام پر قتل عام کیا گیا ان کے عصمتیں لوٹی گئی اور یہی فارمولا آج بلوچستان میں استعمال کیا جارہاہے بلوچ ہزاروں سالوں سے مسلمان ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناطے پر کوئی کسی دوسرے مسلمان کے غلامی قبول نہیں کرسکتا غلامی چاہے کسی کا بھی ہو و ہ غلامی ہے جبکہ توسیع پسند کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ان کا دین و ایمان جبر ہوتا ہے ساؤتھ امریکا میں رہنے والے اور چینی مسلمان جب ایک نہیں ہوسکتے تو اسلام کے نام پر ہم اکھٹے کیسے ہوسکتے ہیں دنیا میں جتنے بھی فطری ممالک ہے وہ مذہب کے نام پر نہیں بنے دنیا میں کہیں بھی مسلمستان نہیں بلکہ وہ قوموں کے نام پر ہزاروں سالوں سے قائم ہے مسلمان قوم ہونے کے ناطے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اپنی ہم مذہب کی آزادی چھین لین اور اس کی جغرافیہ میں مداخلت کریں وزیر داخلہ کا بیان کہ بلوچستان میں اسلام کا دفاع کرر ہے ہیں جھوٹ کا پلندہ ہے بلوچ ایک سیکولر اور مہذب قوم ہے اوراپنے پیچھے ہزاروں سالہ شاندار تاریخ رکھتا ہے اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ پنجاب سے رہاہے اور آج بھی پنجاب سے ہیں

یہ بھی پڑھیں

فیچرز