یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچ یکجہتی کمیٹی کا عدالتی بدانتظامی پر شدید ردِعمل، اعلیٰ عدلیہ سے...

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا عدالتی بدانتظامی پر شدید ردِعمل، اعلیٰ عدلیہ سے مداخلت کا مطالبہ

شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے 7 فروری بروز ہفتہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والی جیل ٹرائل کی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماعت کے دوران واضح جانبداری اور تعصب کا مظاہرہ کیا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مقدمے کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہے اور عدالتی کارروائی محض اسے قانونی رنگ دینے کے لیے کی جا رہی ہے۔

کمیٹی کے مطابق سماعت کے دوران جج کا رویہ انتہائی تشویش ناک تھا۔ دفاعی وکلا کو بار بار روکا گیا، ان کے دلائل کو نظر انداز کیا گیا اور ملزمان کے ساتھ معاندانہ طرزِ عمل اختیار کیا گیا، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A میں درج شفاف ٹرائل کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے باقاعدہ طور پر عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ پر اپنے اعتراضات جمع کرائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاعی وکلا کے ساتھ مسلسل بدسلوکی کی جا رہی ہے اور ایسے احکامات جاری کیے گئے جو بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات غیر قانونی اور عدالت کے دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عدالتی جانبداری کی نشاندہی کی تو جج محمد علی مبین نے سخت لہجے میں کہا: “تمہاری اور تمہارے وکلا کی بات کون سنے گا؟ تمہاری آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔” بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ایک جج کی جانب سے کھلی عدالت میں اس نوعیت کے ریمارکس عدالتی اخلاقیات اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔

دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ملزم جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرے تو قانونی تقاضا یہ ہے کہ معاملہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھجوا کر کیس کسی دوسری عدالت کو منتقل کیا جائے، مگر انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج نے یہ قانونی راستہ اختیار کرنے سے انکار کیا اور دلائل سننے سے بھی گریز کیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا کہ اسے مذکورہ عدالت سے شفاف انصاف کی کوئی توقع نہیں رہی۔ کمیٹی کے مطابق یہ مقدمات دراصل BYC رہنماؤں کی پُرامن سیاسی و انسانی حقوق کی سرگرمیوں خصوصاً جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کا ردِعمل ہیں، جنہیں دبانے کے لیے ریاستی طاقت اور قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

تنظیم نے اعلیٰ عدلیہ سے فوری نوٹس لینے، کیس کو غیر جانبدار عدالت منتقل کرنے اور آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان عدالتی کارروائیوں کی نگرانی کریں اور پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز