کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ شال زون کی جانب سے بروز سوموار، بمورخہ 07/08/2023، بمقام جامعہ بلوچستان میں ایک اسٹڈی سرکل بعنوان “قومی طاقت اور اس کے عناصر” انعقاد کیا گیا۔ مذکورہ اسٹڈی سرکل کا اسپیکر بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ شال زون کا صدر حکمت قمبر تھا۔ اس کے علاوہ، اسٹڈی سرکل میں سوال جواب کا سیشن بھی رکھا گیا۔ جس میں ساتھیوں نے بھرپور حصہ لیا۔
بی ایس ایف شال زون کے صدر حکمت قمبر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر رونما ہونے والی سیاست کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، اس کا تجزیہ کیا جائے، تو اس کا جوہر یا ماہیت طاقت کا حصول یا طاقت میں اضافہ یا طاقت کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ تمام سطحوں کی سیاست پاور سے جڑی ہے، تو بے جا نہیں ہوگا۔ اس لیئے، کہا جاتا ہے کہ جس طرح فزکس میں توانائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اسی طرح سیاست میں طاقت کو حاصل ہے۔
اس نے طاقت کا تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طاقت دراصل اس صلاحیت یا شکتی کا نام ہے جس سے کسی دوسرے انسان، ماحول یا کسی بھی چیز کو اپنے خواہش یا مرضی کے مطابق قابو کیا جاسکتا ہے۔ دراصل طاقت کوئی اپنے آپ میں ایک اکائی نہیں بلکہ کئی چیزوں یا ذرائع کا مرکب ہے۔ یعنی طاقت ایک ہی چیز سے بن کر ابھرتا نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی دوسرے بنیادیں یا عوامل ہوتے ہیں۔
ساتھی نے مزید کہا کہ طاقت حاصل کرنے، اس میں اضافہ کرنے یا طاقت کا مظاہرہ کرنے کے پیچھے ہر نوعیت کے مقاصد ہوسکتے ہیں، ان سب کا احاطہ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ تاہم، طاقت کے پیچھے جو بنیادی مقصد ہوتا ہے وہ دراصل کسی بھی چیز کو اپنے قابو میں رکھنا ہوتا ہے تاکہ جو بھی چاہا جائے، اس کے ساتھ یوں معاملہ کیا جائے۔
بات کو آگے لے جاتے ہوئے ساتھی نے کہا کہ کسی بھی قوم کے قومی طاقت پر جائزہ لیا جائے، تو آسانی سے علم ہوتا ہے کہ اس کی طاقت کئی چیزوں کے کماحقہ استعمال یا استحصال کا باعث ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ محض ایک ہی چیز پر مہارت اور عبور حاصل کرے اور پھر کوئی طاقت بن کر دنیا میں ایک حیثیت حاصل کرے، ایسا ہرگز نہیں۔ ساتھی نے اپنی دلیل مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم عالمی منظرنامہ پر نوزائیدہ عالمی طاقتور چین کو دیکھ لیں، تو وہ صرف اپنی معیشت کی وجہ سے طاقتور نہیں بنا، بلکہ اس کی حیران کن طور پر ابھرتی طاقت معشیت، تجارت، سیاست، سفارت، عسکریت، ٹیکنالوجی، جیو اسٹریٹجک اہمیت، تعلیم یافتہ اور باہنر آبادی وغیرہ کا مرکب ہے۔ چین نے انسانی زندگی کے تماتر شعبہ ہائے جات میں بھرپور توجہ، محنت اور انویسٹمنٹ کرکے اپنی طاقت بنالی ہے۔ اسی طرح، اگر انڈیا کی ابھرتی طاقت کو دیکھ لیں، تو وہ بھی کئی شعبہ ہائے جات یا محازوں پر انویسٹمنٹ کرکے ڈیولپ کررہا ہے۔ انڈیا کا ٹیکنالوجی، معیشت اور عسکریت میں بے پناہ توجہ، محنت اور انویسٹمنٹ قابل ذکر ہے۔ اس لیئے، یہ کہنا کہ کوئی بھی قوم یا ملک صرف ایک ہی شعبہ یا محاز پر توجہ، محنت اور انویسٹمنٹ سے طاقتور بن سکتا ہے، یہ ایک کج فہمی کے سوا کچھ نہیں۔
ساتھی نے کہا کہ اگر ہم انٹرنیشنل ریلیشنز کے زاویہ سے قومی طاقت کے عناصر کو دیکھ لیں، تو اس میں بہت سے عناصر ہیں مگر کچھ عناصر یہ ہیں۔ جس میں جغرافیہ، باصلاحیت آبادی، درست طریقے سے قدرتی وسائل کا استعمال، توانا معشیت، مضبوط فوج، بہترین سفارت کاری، لیڈرشپ، نظریاتی مورال اور کردار اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر، ٹیکنالوجی پر عبور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ساتھی نے آخر میں کہا کہ ایک قوم یا تحریک کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان عناصر کو اہمیت دیں، اس پر انویسٹمنٹ کریں، تب وہ ایک ناقابل شکست قومی طاقت تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ورنہ ایک ہی محاز یا عنصر کو سب کچھ سمجھنا اور دوسرے محازوں یا عناصر کو بالکل اہمیت نہ دینے سے قومی طاقت بہت حد تک محدود اور کم عمیق ہوکر رہ جاتا ہے اور یقیناً، دوسری طاقتوں سے خود کو بچانا یا اپنا حق حاصل کرنا ناممکن ہوسکتا ہے۔


