تربت (ہمگام نیوز) تربت میں گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بالاچ بلوچ نامی نوجوان کو ریاستی حمایت یافتہ مسلح عناصر نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے سنگانی سر قبرستان کے قریب بالاچ بلوچ کو نشانہ بنایا اور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ واقعے کے وقت بالاچ بلوچ اسکالر اللہ داد واحد کی پہلی برسی کے موقع پر فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان گئے ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بالاچ بلوچ اس سے قبل دو مرتبہ قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہو چکے تھے۔ پہلی بار انہیں 25 اکتوبر 2023 کو حراست میں لیا گیا اور 25 دن بعد رہا کیا گیا۔ چند ماہ بعد انہیں دوبارہ جبری لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں جھوٹے مقدمات بنا کر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا گیا، جہاں وہ طویل عرصے تک زیرِ حراست رہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق بالاچ بلوچ کو ماضی میں بھی کئی بار دھمکیوں اور حملوں کا سامنا رہا، تاہم گزشتہ روز انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت قتل کر دیا گیا۔


