تہران (ہمگام نیوز) سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پیر کے روز کیے گئے میزائل حملوں میں قابض ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ “امام حسین ملٹری یونیورسٹی” مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

مذکورہ یونیورسٹی، جو قابض ایرانی سپاہ پاسداران (IRGC) کے اعلیٰ کمانڈروں کے لیے ایک اسٹریٹیجک تربیتی اڈے کے طور پر جانی جاتی تھی، کئی خفیہ جوہری و عسکری منصوبوں، بالخصوص ایرانی جوہری پروگرام سے منسلک تحقیقی لیبارٹریوں کی بھی میزبان تھی۔

علاقائی مبصرین کے مطابق یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے قابض ایران پر مسلسل جوابی کارروائیوں کا حصہ ہے، جو پچھلے بارہ دنوں سے جاری ہیں۔ ان حملوں کے دوران ایران کو شدید انٹیلیجنس اور عسکری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایرانی ریاست کے سرکاری میڈیا اور مذہبی پروپیگنڈا مشینری مسلسل “فتح” کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب قابض ایران کی دفاعی کمزوری اور حساس عسکری مراکز کی تباہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی اندرونی دفاعی صلاحیتیں محض دکھاوا ہیں، اور اسرائیلی حملے نے اس کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔