گوادر: (ہمگام نیوز)3 جولائی 2015 کو گوادر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر اغواء ہونے والے بلوچ فرزند عظیم دوست ولد دوست محمد کے لواحقین نے ان کی بازیابی کی ایک بار پھر اپیل کردی ہے۔
یاد رہے عظیم دوست ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچی آرٹسٹ بھی ہیں جنہیں قابض پاکستانی فوج نے 3 جولائی 2015 کو بلوچستان کے ساحلی علاقے کولونی گوادر سے جبری طور پر اغواء کرنے کے بعد ریاستی ٹارچر سلوں میں منتقل کردیا 5 سال کی طویل مدت کے باوجود ابھی تک بازیاب نہ ہو پائے۔
شاعر عظیم دوست کے لواحقین نے حکومت اور ملکی اداروں سے اپیل کرتے ہوے کہا کہ ان کے عزیز عظیم دوست ولد دوست محمد کو بازیاب کیا جائے۔
واضح رہے پاکستانی ریاست کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون میں شہریوں کے حقوق درج ہیں، جس میں واضع طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کسی فرد پر جرم ثابت نہ ہونے تک اسے قید رکھنا اور اس پر تشدد کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے کے منافی ہے کیونکہ آئین کے مطابق ریاست کے ہر فرد کو اپنی زندگی آزادی سے گزارنے کا حق حاصل ہے۔


