یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںجرمنی: انخلا سے قبل افغانستان میں بڑھتی پرتشدد کارروائیوں کے باعث کمانڈرز...

جرمنی: انخلا سے قبل افغانستان میں بڑھتی پرتشدد کارروائیوں کے باعث کمانڈرز نے اپنے سپاہیوں کے بیئر پینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جرمنی(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سے مزید ساڑھے 22 ہزار لیٹر بیئر اپنے ملک واپس منتقل کرے گا کیونکہ انخلا سے قبل افغانستان میں بڑھتی پرتشدد کارروائیوں کے باعث کمانڈرز نے اپنے سپاہیوں کے بیئر پینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اپریل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے 11 ستمبر 2021 تک اپنی تمام افواج نکال لے گا۔ جلد ہی نیٹو اتحادیوں نے اعلان کیا کہ وہ بھی ایسے ہی کریں گے۔ تب سے اب تک ملک میں تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت، امریکہ اور نیٹو طالبان پر الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ تینوں فریق طالبان کو تشدد میں کمی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر قصوروار ٹھہراتے ہیں تاہم طالبان اس الزام کا انکار کرتے ہیں۔

جرمن اخبار در شپیگل نے جمعے کو پہلی مرتبہ خبر دی تھی کہ جرمن سپاہیوں کے پاس افغانستان میں اپنے اڈوں پر بے پناہ اضافی شراب موجود ہے۔ جرمن سپاہیوں کو عام طور پر دن میں دو کین بیئر پینے یا اتنی ہی مقدار میں کوئی اور شراب پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ اخبار کے مطابق شمالی افغانستان میں مزارِ شریف کے قریب کیمپ مرمل میں 60 ہزار سے زیادہ بیئر کے کین، وائن اور شیمپین کی بوتلیں موجود ہیں۔

جرمن وزارتِ دفاع کی ایک ترجمان نے پیر کو بتایا کہ اُنھیں شراب کی واپس منتقلی کے لیے ایک سویلین ٹھیکیدار مل گیا ہے جس پر ترجمان کرسٹینا روٹسی نے پیر کو اعلان کیا کہ سویلین ٹھیکیدار اب آخری جرمن دستے کے ملک سے انخلا سے قبل ہی جرمن واپس منتقل کر دے گا۔

یاد رہے افغانستان میں اب بھی 1100 سے زیادہ جرمن فوجی موجود ہیں۔ جنگ کی ابتدا سے لے کر اب تک تقریباً 59 جرمن فوجی ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز