شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںجلاوطنی کا سب سے بڑا زخم!۔ عبدالواجد بلوچ

جلاوطنی کا سب سے بڑا زخم!۔ عبدالواجد بلوچ

اور آج جب خود سے سوال کرتا ہوں کہ اب کس در پر سر رکھ کر روؤں؟ تو جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ ماں کے بعد ہر در اجنبی، ہر سایہ بےوفا اور ہر دعا ادھوری لگتی ہے۔ وہ ہستی جس کی موجودگی میں زندگی کی سختیاں بھی نرم پڑ جاتی تھیں، آج اس کے بغیر سانس لینا بھی بوجھ بن گیا ہے۔ ماں کی گود وہ واحد جگہ تھی جہاں انسان مکمل محفوظ ہوتا ہے، اور آج وہ گود ہمیشہ کے لیے خالی ہو گئی۔

یہ جدائی صرف قدرت کا فیصلہ نہیں، یہ وقت اور حالات کی مسلط کردہ سزا بھی ہے۔ گزشتہ دس برس سے میں اپنے وطن سے دور ہوں نہ شوق میں، نہ خواہش میں، بلکہ مجبوری میں۔ یہ وہ جلاوطنی ہے جو جرم نہیں، مگر جرم کی طرح کاٹی جاتی ہے۔ ایک ایسی جلاوطنی جس کی بنیاد اپنی سرزمین سے محبت اور آزادی کے اس خواب پر رکھی گئی جس کی قیمت اپنوں سے بچھڑنا ٹھہری۔

ابھی تو والدِ محترم کی جدائی کا غم دل سے اترا بھی نہ تھا۔ ایک سال پہلے جب وہ ہمیں چھوڑ کر گئے تو یوں لگا جیسے گھر کی چھت گر گئی ہو۔ باپ کا سایہ اٹھ جانا انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔ ان کی نصیحتیں، ان کی خاموش محبت، ان کی موجودگی سب کچھ اچانک یادوں کا حصہ بن گیا۔ ہم نے خود کو یہ کہہ کر سنبھالا تھا کہ ماں زندہ ہیں، دعا باقی ہے، حوصلہ باقی ہے۔ مگر آج…! آج وہ آخری دعا بھی ہم سے جدا ہو گئی۔

یہ کیسا مقدر ہے کہ ماں باپ دونوں کی قبریں ایک سال کے فاصلے سے بنیں اور ہم دونوں بار پردیس کی مٹی پر بیٹھ کر آنسو بہاتے رہ جائیں۔ نہ باپ کے جنازے کو کندھا نصیب ہوا، نہ ماں کے چہرے کا آخری دیدار۔ یہ وہ دکھ ہے جو صرف آنکھوں سے نہیں، روح سے بہتا ہے۔

جلاوطنی کا سب سے بڑا دکھ یہی ہوتا ہے کہ غم کے وقت بھی انسان اکیلا ہوتا ہے۔ جب وطن میں ماتم بچھا ہو اور پردیس میں صرف خاموش دیواریں ہوں۔ نہ ماں کے آنسو پونچھ سکتا ہے، نہ باپ کے کندھے سے لگ کر رو سکتا ہے۔ بس سرزمینِ غیر میں بیٹھ کر اپنی مٹی کو یاد کرتا ہے، اس مٹی کو جس کے لیے سب کچھ قربان کیا گیا حتیٰ کہ ماں باپ کی آخری رخصتی بھی۔

اے اللہ! تو جانتا ہے کہ ہم نے وطن نہیں چھوڑا، وطن ہم سے چھینا گیا۔ تو جانتا ہے کہ یہ جدائی عیش نہیں، آزمائش ہے۔ اگر ماں باپ کی خدمت میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اپنی رحمت سے معاف فرما دے۔ اے ربِ کریم! میرے والد اور میری ماں دونوں کی قبروں کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنا دے۔ ان کے درجات بلند فرما، ان کے گناہوں کو معاف فرما، اور انہیں اس اولاد کی جدائی کا اجر عطا فرما جو تیرے دیے ہوئے ایک حق آزادی کے خواب سے جڑی رہی۔

یہ بھی کیسا المیہ ہے کہ ماں کی قبر پر جا کر مٹی کو ہاتھ لگانے کی حسرت بھی دل میں ہی دفن ہو گئی۔ نہ فاتحہ پڑھتے ہوئے ان کے سرہانے کھڑا ہو سکا، نہ آنسوؤں سے ان کی قبر کی مٹی بھگو سکا۔ بس پردیس کی راتوں میں سجدے میں گر کر رویا، اور اللہ سے کہا کہ یا رب! یہ آنسو میری ماں اور میرے باپ کے نامۂ اعمال میں نور بنا دے۔

ماں باپ کی جدائی کے بعد وقت جیسے رک گیا ہے۔ گھڑیاں چلتی ہیں مگر زندگی آگے نہیں بڑھتی۔ ہر خوشی جرم لگتی ہے، ہر مسکراہٹ بےوفائی محسوس ہوتی ہے۔ دل بار بار اپنے وطن کی گلیوں میں بھٹکتا ہے، جہاں باپ کی شفقت، ماں کی دعا اور سرزمین کی خوشبو آج بھی زندہ ہے۔

کاش! زندگی نے اتنی مہلت دی ہوتی کہ ایک بار باپ کے قدموں میں بیٹھ کر کہہ سکتا:

“ابو، آپ کا بیٹا کمزور تھا مگر بےوفا نہیں تھا”

اور ایک بار ماں کو گلے لگا کر کہہ سکتا:

“اماں، آپ کی جدائی نے توڑ دیا، مگر آپ کی دعا نے جھکنے نہیں دیا”

مگر اب یہ الفاظ بھی صرف دعا بن کر آسمان کی طرف اٹھتے ہیں۔ ماں باپ چلے گئے، مگر ان کی یادیں، ان کی دعائیں، اور اس سرزمین سے جڑا مقصد یہ سب ہمارے ساتھ رہیں گے، آخری سانس تک۔

یہ صرف جدائی نہیں…

یہ یتیمی ہے،

یہ جلاوطنی ہے،

یہ آزادی کی قیمت ہے،

اور شاید یہی وہ صبر ہے جس پر اللہ کی سب سے بڑی رحمت نازل ہوتی ہے۔

اللہ ہمیں صبرِ جمیل عطا فرمائے،

اور ہماری ماؤں، باپوں اور ہماری مٹی کو آزادی کا دن دکھائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز