جیونی (ہمگام نیوز) پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر جیونی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں پر موجود قابض فوج کے ایک کیمپ پر بلوچ سرمچاروں نے حملہ کیا ہے اور وہاں موجود تیل کے بڑے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر جیونی میں بندری کیمپ کے اُس حصے میں دھماکہ ہوا ہے جہاں حکام کے مطابق ضبط شدہ ڈیزل کے اسٹوریج کنٹینر رکھے جاتے تھے۔
یاد رہے کہ جیونی گوادر مند اور پنجگور سمیت دیگر بعض علاقوں میں ایرانی و پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کو غیرفطری سرحدوں کے زریعے بانٹ کر وہاں پر چیک پوائنٹس لگائے گئے ہیں انہیں چیک پوائنٹس سے روزانہ کی بنیادوں عام بلوچ تیل سمیت دیگر اشیا کی کاروبار کرتے ہوئے بلوچستان کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے سامان کی ترسیل کی جاتی ہے، لیکن پاکستانی قابض فوج عام بلوچ کاروباری لوگوں سے یہی تیل اور دیگر مصنوعات کو کسٹم نہ ہونے کے بہانے ضبط کرکے اپنے پاس رکھ کر اپنے استعمال میں لاتی ہے یہ دراصل بلوچ قوم کو معاشی طور پر ختم کرنے کے پاکستانی و ایرانی سازشوں کا حصہ ہے۔
بلوچستان کے اندر موجود قابض فوج کے بیشتر کیمپس میں اس طرح کی ضبط شدہ تیل اور دیگر مصنوعات کی اچھی خاصی تعداد ہمہ وقت موجود رہتی ہے جو قابض فوج کی گزربسر اور پٹرولنگ کے کام آتی ہے تاہم بلوچ سرمچار پاکستانی و ایرانی ریاست کے قابض افواج کو ہرسطح پر نقصانات سے دوچار کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں تاکہ بلوچستان پر قابضین کی گرفت اور قوت کو کمزور کیا جاسکے۔
آخری اطلاعات آنے تک بتایا جارہا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی، جسے قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔


