شال (ہمگام نیوز) گزشتہ دنوں حکومتِ بلوچستان کے نمائندوں کی جانب سے کوئٹہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں تنظیم کے خلاف من گھڑت الزامات لگائے گئے، جو نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بحیثیت حکومتی نمائندہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے بغیر تحقیق اور سچائی جانے اس طرح کی بے بنیاد الزام تراشی انتہائی تشویشناک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی بے بنیاد اور منفی بیانیہ سازی صرف بلوچ طلبہ کو ان کے جائز تعلیمی حقوق اور علم سے دور رکھنے کی ناکام سازش ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچستان میں تعلیم، علمی حقوق اور معاشرتی بہتری کے لیے سرگرم ایک فعال طلبہ تنظیم ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنا اور بلوچ معاشرے میں علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ بلوچ نوجوان جدید دور کے علوم سے آراستہ ہو کر ایک تعلیم یافتہ نسل بن سکیں۔ ہماری تمام تعلیمی و سیاسی سرگرمیاں بلوچستان میں واضح ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوان اس تنظیم میں شامل ہو کر اپنے تعلیمی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں کتاب پڑھنے کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ‘بلوچستان کتاب کاروان’ کے نام پر کتب میلے، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم دستیابی اور ناخواندگی کے خلاف ‘بلوچ لٹریسی کیمپین’ سمیت بلوچستان بھر میں علمی و ادبی سرگرمیاں ہمارے پروگراموں کا حصہ ہیں۔
بلوچستان، جسے پہلے ہی علمی میدان میں پیچھے رکھا گیا اور جس کا تعلیمی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، وہاں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم طلبہ کو کبھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی دوسرے ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے جائز تعلیمی و انسانی حقوق سے دستبردار ہو جائیں۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اسی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ بلوچ طلبہ کو مزید اندھیرے میں دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگا کر اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اب منفی پروپیگنڈہ کر کے تنظیم اور بلوچ طلبہ کے خلاف بیانیہ سازی کی جا رہی ہے تاکہ سیاسی سرگرمیوں پر ان غیر قانونی پابندیوں کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بلوچ نوجوانوں سے اس لیے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ پڑھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، تنقید کرتے ہیں اور غور و فکر کر کے اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کرپٹ نظام میں سوال اور تنقید کرنا اب جرم بن چکا ہے، مگر بلوچ نوجوان پڑھنے، تنقید کرنے اور اپنے جائز حقوق کی جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
ہم میڈیا کے توسط سے یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں ہے بلکہ آئین کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کر رہی ہے اور ہماری جدوجہد روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ حکومتی نمائندے ایسی غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی سے اجتناب کریں اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں جمہوری و پرامن سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔


