خاران (ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں خاران کے علاقے گواش میں مسلح افراد نے خود کو آزادی پسند تنظیم کے سرمچار ظاہر کرتے ہوئے کریم بخش محمد حسنی نامی شخص کے گھر کی چادر و چاردیواری کی پامالی کی، اور گھر میں ڈکیتی کے علاوہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے کہ تنظیم کا اس غیراخلاقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
متاثرہ فیملی کی طرف سے ابتدائی طور پر چند لوگوں کی شناخت کی گئی ہے جن میں ٹکری مصطفیٰ و اس کے خاندان کے لوگ شامل ہیں۔ البتہ بی ایل اے اپنی طرف سے اس واقعے کے متعلق غیرجانبدارانہ اور آزاد تحقیقات کریگی اور ڈکیتی و ذاتی دشمنی کے مقصد سے قومی تنظیم کا نام استعمال کرنے کی جراًت کرنے والے جو بھی ہوں، ان کا احتساب کیا جائے گا۔
مزید برآں پاکستانی خفیہ اداروں کا اس واقعے میں ملوث افراد کی پشت پناہی کے ٹوس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خاران میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں سرگرم مسلح چور و ڈکیت خاران شہر سے لیکر گردونواح میں اس طرح کے متعدد کاروائیاں کرچکے ہیں اور تاحال کررہے ہیں۔ ماضی میں بھی ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں نے خفیہ اداروں کے خاص ہدایت پر خاران بازار میں تنظیم کا نام استعمال کرکے تاجروں کو لوٹا تھا۔


