خاش ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ خاش سے ایرانی قابض فورسز اہلکاروں نے گزشتہ روز ایک بلوچ نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ نوجوان کی شناخت 20 سالہ ناصر مینگل ولد خدانظرکے نام سے ہوا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، سادہ لباس اہلکار ناصر مینگل کے گھر داخل ہوئے اور بغیر کسی عدالتی حکم یا وجہ بتائے اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ گرفتاری کے بعد سے اب تک نہ تو ناصر کا کوئی پتہ چل سکا ہے اور نہ ہی اس کے اہلِ خانہ کو کسی قسم کی اطلاع دی گئی ہے۔
ناصر کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا
فورسز رات کے وقت گھر آئے، دروازہ توڑا اور ناصر کو زبردستی ساتھ لے گئیں۔ جب ہم نے پوچھا کہ کس جرم میں گرفتار کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اہلِ خانہ نے خاش میں مختلف سیکیورٹی اور عسکری اداروں سے رجوع کیا، مگر کسی بھی ادارے نے گرفتاری یا حراست کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ناصر مینگل کے اہلِ خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو تشدد یا بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔
بغیر عدالتی حکم کے گرفتاری اور اہلِ خانہ کو لاعلم رکھنا، بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق (آرٹیکل ۹) اور ایرانی آئین (آرٹیکلز ۳۲ اور ۳۷) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایسے اقدامات شخصی آزادی اور تحفظ کے بنیادی حق کی صریحاً پامالی ہیں، اور متعلقہ ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ فوری طور پر ناصر مینگل کی حراست، وجوہاتِ گرفتاری اور جسمانی حالت کے بارے میں اہلِ خانہ اور عدالتی حکام کو آگاہ کریں۔


