شال (ہمگام نیوز) بلوچستان بار کونسل نے نصیر آباد کے علاقے منجھوشوری میں پولیس کی جانب سے بلوچ خواتین کی گرفتاری اور ان پر مبینہ تشدد کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
چیئرمین بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو حراست میں لینا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرنا آئینِ پاکستان، ملکی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق منجھوشوری میں خواتین اپنی جائز شکایات کے حل کے لیے پُرامن احتجاج کر رہی تھیں، تاہم پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کیا، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
چیئرمین بار کونسل نے کہا کہ خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ نہ صرف ریاستی قوانین کے منافی ہے بلکہ معاشرتی اقدار، انسانی وقار اور عدالتی نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
راحب بلیدی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری، شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ گرفتار خواتین کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں، خصوصاً خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
چیئرمین بلوچستان بار کونسل نے خبردار کیا کہ اگر ایسے واقعات کا سلسلہ بند نہ ہوا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو بار کونسل آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سخت لائحۂ عمل اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ بلوچستان بار کونسل خواتین کے حقوق، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔


