دزاپ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ دزاپ سے رپورٹ کے مطابق ہفتہ 15 جولائی کو قابض ایرانی انٹیلیجنس اور فورسز کی جانب سے کازرون کے قریب ایک گرین ہاؤس میں مقیم بلوچ مزدوروں کے گروپ پر چھاپے کے دوران دیگر کئی افراد کے ساتھ محسن دشتی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جو کہ تاحال لاپتہ ہے ۔

بتایا جارہاہے کہ چھاپے اور گرفتاری کے بعد دیگر تمام افراد کو اگلے دن رہا کر دیا گیا، تاہم محسن دشتی بدستور حراست میں ہے اور اس کی حالت اور مقام کے بارے میں کوئی معلومات اہلخانہ کو نہیں دیئے جارہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، محسن دشتی کی عمر تقریباً 20 سال ہے، وہ نواز ,دشتی کا بیٹا اور سرباز کے گاؤں سردشت کا رہائشی ہے۔ وہ اپنے دو بھائیوں، ایک چچا زاد اور ایک خالہ زاد کے ساتھ مزدوری کے لیے کازرون گیا تھا اور وہیں اپنے کام کی جگہ پر رہائش پذیر تھے۔ قابض ایرانی فورسز نے رات کے وقت ان کے قیام گاہ پر چھاپہ مارا اور تمام موجود افراد کو گرفتار کیا، لیکن اگلے دن سب کو رہا کر دیا گیا سوائے محسن دشتی کے جو تاحال بغیر کسی الزام اور معلومات کے حراست میں ہے۔

اس خبر کے شائع ہونے تک محسن دشتی کے ٹھیک مقامِ حراست اور اس پر عائد الزامات کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔