شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںدکی جعلی مقابلے میں مارے جانے والے تینوں افراد کی نعشیں ...

دکی جعلی مقابلے میں مارے جانے والے تینوں افراد کی نعشیں شاہراہ پر رکھ کر لواحقین کا احتجاج

دکی ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ دکی میں بلوچ خواتین نے گزشتہ روز ندی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے تینوں افراد کی نعشیں ہسپتال سے لیکر دکی رباط کے مقام پر مائنز کانٹا کے ساتھ شال ،لورالائی دکی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج شروع کردیا ہے –

 یاد رہے کلی سفر علی کے تینوں افراد کی لاشیں گذشتہ روز یارو شہر ندی سے برآمد ہوئے تھے ۔

جنھیں ہسپتال پہنچادیا گیا ۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ تینوں کو گولیاں مار کر قتل کردیاگیا ہے ۔

جہاں تینوں

 مقتولین کی شناخت علی محمد حسن بلوچ، محمد یونس ولد محمد عیسیٰ بلوچ، اور ولی محمد ولد امیر محمد سکنہ دکی کلی سفر علی بلوچ سے ہواتھا۔ جس کے بعد لواحقین نے کہاکہ

 محمد یونس ولد محمد عیسیٰ جن کی لاش آج ملی ہے، پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار تھے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے 21 جون کو جاری کردہ ایک بیان میں اس کی تصدیق کی تھی کہ دُکی سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے شال میں پارٹی قیادت سے ملاقات میں بتایا تھا کہ کلی سفر علی بلوچ میں پاکستانی فورسز نے چھاپوں کے دوران کئی افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا جن میں غلام شاہ ولد نیک محمد، منظور احمد ولد محمد اسلم، محمد یونس ولد محمد عیسیٰ، فرید احمد ولد محمد انور، محمد انور ولد محمد حسین، بشیر احمد ولد رحیم بخش، اور نصیب اللہ ولد رحیم بخش شامل ہیں کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز