یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںراشد حسین بلوچ کی پاکستان حوالگی کے خلاف برلن میں احتجاجی مظاہرہ

راشد حسین بلوچ کی پاکستان حوالگی کے خلاف برلن میں احتجاجی مظاہرہ

برلن ( ہمگام نیوز ) ریلیز راشد حسین کمیٹی کی جانب سے آج جرمنی کے دارلحکومت برلن میں متحدہ عرب امارات سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا ۔گزشتہ سال 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات شارجہ سے متحدہ عرب امارات خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ معروف بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کی جبری گمشدگی اور پاکستان حوالگی کے خلاف مظاہرہ ہوا ، مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر راشد حسین کی گمشدگی اور پاکستان حوالگی کے خلاف نعرہ درج تھے ۔مظاہرین نے متحدہ عرب امارات کی اس انسان دشمن اقدام کے خلاف نعرہ بازی کیا اور پمفلٹ تقسیم کیا ۔

مظاہرین نے کہا کہ راشد حسین معروف بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور انسانی حقوق کے سرگرم رکن تھے ۔راشد حسین کا فیملی پاکستانی جبر کا شکار ہوا اور اسکا ایک چچا اور دو کزن پاکستانی فوج اور مذہبی دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل ہوچکے ہیں ۔راشد حسین اپنے زندگی کو بچانے کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل ہوچکے تھے اور وہاں محنت مزدوری کے علاوہ بلوچستان  میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر سوشل میڈیا میں ایک منظم طریقے سے آواز اٹھا رہے تھے لیکن پاکستان فوج اور آئی ایس آئی کو یہ عمل ناگوار گزرا اور اس نے متحدہ عرب امارات خفیہ اداروں کے ہاتھوں راشد حسین کو 26 دسمبر 2018 کو راہ چلتے شارجہ سے اغوا کرایا اور 6 مہینوں تک اذیت خانوں میں رکھا اور 22 جون کو غیر قانونی طور پر پر اسے ایک پرائیوٹ طیارہ کے ذریعے بلوچستان منتقل کرکے پاکستانی فوج کے حوالہ کیا گیا اور 3 جولائی کو پاکستانی میڈیا میں یہ خبر بریک کیا گیا کہ راشد حسین کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے جو جھوٹ ہے ۔

مظاہرین نے کہا کہ راشد کی متحدہ عرب امارات سے گمشدگی کے بعد ہیومن رائٹس واچ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر مہذب انسانی حقوق کے اداروں نے متحدہ عرب امارات حکومت سے اپیل کیا تھا کہ راشد حسین کی پاکستان حوالگی سے اسکے جان کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہے تو راشد حسین کو عدالتوں میں پیش کیا جائے مظاہرین کے پاس متحدہ عرب امارات میں راشد حسین کی وکیل کا ایک لیٹر بھی تھا جس پر یہ درج تھا کہ راشد حسین بے گناہ ہے اور اس پر کوئی کیس نہیں ہے 

لیکن متحدہ عرب امارات نے تمام اصولوں کو پاوں تلے روندتے ہوئے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے راشد کو موت کی منہ میں دھکیل دیا ۔مظاہرین نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات سے یہ پوچھتے ہیں راشد کا جرم کیا تھا ؟اور وہ کیوں درندوں کے حوالے کیا گیا ہے مظاہرہ میں بلوچ سیاسی کارکنوں نے  بڑی تعداد میں شرکت کیا ۔مظاہرین نے کہا کہ راشد حسین کی بحفاظت بازیابی تک ہمارا جدوجہد جاری رہے گا ۔

ریلیز راشد حسین کمیٹی جرمنی میں تمام بلوچ سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرکے احتجاج کا دائرہ وسیع کرے گا اور جلد انٹرپول حکام سے وضاحت طلب کرے گا اس کے نام پر متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے مل کر ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور انسانی حقوق کے کارکن کو موت کہ منہ میں دھکیل دیا ہے اور انٹرپول خاموش ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز