دوزآپ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان میں بروز ہفتہ 25 اگست 2025 کو درجنوں بلوچ شہریوں نے زاہدان میں بلوچستان گورنر ھاؤس کی عمارت سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں روتک بارڈر کراسنگ کی بندش اور گورنر کے ٹینکر پلان کے خلاف احتجاج کیا۔
ریلی میں مظاہرین نے اپنے مطالبات پڑھ کر سنایا ،جس میں انھوں گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے کس ضوابط کے تحت روتک بارڈر کراسنگ کو بند کرنے کا حکم دیا ہےاور تیس ہزار سے زائد افراد کو انکی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے محروم کر رکھا ہے اور وہ اس وقت انتہائی مایوسی کا سامنا کر رہے ہیں ، آپ نے کون سی فیکٹریاں اور پرائیویٹ کمپنیاں بنائیں اور کیا آپ رزاق پلان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟”
- مظاہرین نے کہاکہ آپ کی ٹینکر پلان اور ایندھن کے ادارے کس منطق سے عوامی بہبودی اور روزگار کے ذرائع ، منصوبے بند کر رہے ہیں؟ جس میں کوئی عوامی رائے عمل کے بغیر آپ نے روزگار کے سارے راستے بند کئے ھیں ، براہ کرم بنیادی ضروریات زندگی کے اشیاء سے پابندی ہٹاکر فوری طور پر روہتک بارڈر کراسنگ کی بندش اور ٹینکر کے منحوس منصوبے پر عمل درآمد کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، جو کہ صرف چند محلات والوں کے لیے ہے۔ براہ کرم سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مدد کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور پاکستان نے سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایندھن کے صارفین کے لیے بے روزگاری اور مقبوضہ بلوچستان کے دونوں جانب غربت اور بھوک کو بڑھا دیا ہے۔


