شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںزاہدان میں شناختی دستاویزات سے محروم 17 سالہ بلوچ نوجوان آرمان خروط...

زاہدان میں شناختی دستاویزات سے محروم 17 سالہ بلوچ نوجوان آرمان خروط گرفتار بعد کئی دنوں سے لاپتہ

زاہدان ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی علاقہ زاہدان سے رپورٹ ہے، بدھ 30 جولائی 2025 کو زاہدان کے علاقے زیباشہر میں ایک 17 سالہ بلوچ نوجوان، جس کے پاس شناختی دستاویزات موجود نہیں تھیں، کو قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر کے الغدیر کیمپ منتقل کر دیا۔ نوجوان کی شناخت “آرمان خروط”، ولد خالقداد، ساکن زاہدان کے طور پر ہوئی ہے۔

گرفتاری کے کئی روز گزرنے کے باوجود، آرمان کے اہلِ خانہ اس کی موجودگی اور خیریت کے بارے میں مکمل لاعلمی میں مبتلا ہیں۔ ان کی تمام تر کوششیں ابھی تک بےنتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ کیمپ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ آرمان کو ملک بدر “رد مرز” کے تحت افغانستان بھیج دیا گیا ہے، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت، دستاویز یا سرکاری اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔

شروع میں اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ آرمان کو غیرملکی شہریوں کے کیمپ میں رکھا گیا ہے، لیکن چند روز بعد حکام نے دعویٰ کیا کہ اسے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ آرمان کے اہلِ خانہ نے افغانستان کے نیمروز صوبے سمیت مختلف اداروں سے رجوع کیا، لیکن ان کا بیٹا کہیں نہ ملا اور کسی ادارے نے ان کی تسلی بخش رہنمائی نہیں کی۔

شناختی دستاویزات سے محروم افراد، خصوصاً نوجوانوں کی بغیر عدالتی کارروائی، بغیر قانونی ثبوت، اور بغیر اہلِ خانہ کو اطلاع دیے گرفتاری، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور جبری گمشدگی کی واضح مثال ہے۔ بلوچ اکثریتی علاقوں میں ایسے اقدامات ان خاندانوں کے لیے دوہرا صدمہ بن جاتے ہیں جو پہلے ہی شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث برسوں سے ریاستی محرومیوں کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ قابض ایران گزشتہ 15 سالوں سے بلوچوں کو اسی طرح سے گرفتار کرکے انہیں غیر ملکی قرار دے کر افغانستان بدر کر رہا ہے ۔
یاد رہے قابض ایران دانستہ طور پر بلوچوں کو شناختی کارڈ سے محروم کر رہا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں انہیں غیر ملکی قرار دے ملک بدثکر دے اور مقبوضہ بلوچستان میں غیر بلوچوں کو آباد کر سکے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز