یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںزاہدان گیارہ بلوچ شہریوں کی لاشیں 18 دن بعد اہلِ خانہ کے...

زاہدان گیارہ بلوچ شہریوں کی لاشیں 18 دن بعد اہلِ خانہ کے حوالےکردیئے گئے

زاہدان ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان آج صوبہ اصفہان کے صحرائی راستوں میں ایرانی سکیورٹی اور پولیس فورسز کے حملے میں جاں بحق ہونے والے گیارہ بلوچ شہریوں کی لاشیں، 18 دن بعد اُن کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئیں۔ اہلِ خانہ اس واقعے کے بعد سے اصفہان پہنچے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق، اس دوران سوگوار خاندانوں کی ذہنی حالت نہایت خراب رہی، غیر یقینی صورتحال اور نفسیاتی دباؤ نے ان کی زندگی مفلوج کر دی۔ حتیٰ کہ جاں بحق افراد میں سے ایک کی والدہ شدید صدمے کے باعث فالج کا شکار ہو گئیں۔

یاد رہے ان بلوچ شہریوں کی شناخت
ہاشم، حسین، رحمت اللہ اور خلیل قنبرزئی ولد نظر،
منصور اور بصیر قنبرزئی ولد عبدالناصر،
فرشید قنبرزئی ولد عبدالسلام،
عبدالرحمان قنبرزئی ولد نادر،
پسند (جواد) قنبرزئی ولد عظیم،
صفی اللہ قنبرزئی ولد سید محمد،
نوراحمد قنبرزئی ولد نوروز کے نام سے ہوا تھا ،جو سب کے سب زاہدان کے رہائشی اور قریبی رشتہ دار تھے، جن میں ایک ہی خاندان کے چار بھائی اور ایک دوسرے خاندان کے دو بھائی شامل ہیں۔

واقعہ کے بعد زاہدان کے ایک قبرستان میں ان سب کے اجتماعی قبریں ایک ساتھ کھودی گئی ہیں اور وہاں سے لی گئی تصاویر نہایت رنجیدہ اور دل دہلا دینے والے مناظر پیش کرتی ہیں، جو ان خاندانوں پر ڈھائے گئے غم اور ناانصافی کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ بھی یاد رہے یہ ہلاکت خیز کارروائی زمینی اور فضائی دونوں طریقوں سے کی گئی، جس میں اصفہان، یزد اور خراسان جنوبی صوبوں کی پولیس فورسز نے حصہ لیا۔ پولیس حکام نے 8 مرداد کو ان ہلاک شدگان کو ایک “مسلح منشیات فروش گینگ” کے اراکین قرار دیا اور ان میں سے ایک شخص کو، جسے وہ “گروہ کا سرغنہ” کہتے ہیں، سرکاری بیانات میں “دیوانۂ کویر” کا لقب دیا تھا۔

ایرانی قوانین کے مطابق، بشمول میڈیکل لیگل آرگنائزیشن کے ضابطہ نمبر 18، قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد لاشیں بغیر تاخیر کے اہلِ خانہ کے حوالے کی جانی چاہئیں۔ اسی طرح، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق، خاندانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے تدفین کے مقام اور حالات سے آگاہ ہوں اور مذہبی و روایتی رسومات ادا کر سکیں۔ ان حقوق کی خلاف ورزی غیر انسانی سلوک اور لواحقین پر اضافی سزا مسلط کرنے کے مترادف ہے، جو شہری بلوچ عوام کی انسانی وقار کے حوالے سے حکومتی بے اعتنائی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز