شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںسیکیورٹی کے نام پر اظہارِ رائے کی بندش، کراچی میں بلوچ یکجہتی...

سیکیورٹی کے نام پر اظہارِ رائے کی بندش، کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پریس کانفرنس روکی گئی

کراچی (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی سالانہ رپورٹ کی رونمائی کے لیے منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس کو روکنے کے لیے اتوار کے روز کراچی پریس کلب کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، جس کے باعث پریس کانفرنس تاحال منعقد نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق اتوار، 25 جنوری کو سہ پہر 3 بجے پریس کانفرنس کا انعقاد طے تھا، تاہم سیکیورٹی خدشات کے نام پر پولیس نے کراچی پریس کلب کی جانب آنے اور جانے والے اہم راستوں کو بند کر دیا۔ مختلف مقامات پر ناکے اور رکاوٹیں قائم کر کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور بی وائی سی کے رہنماؤں کو پریس کلب پہنچنے سے روک دیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کراچی پریس کلب جانے والے مرکزی راستوں پر پولیس موبائلز، اہلکاروں اور رکاوٹیں لگا کر سخت نگرانی کی گئی، جس کے باعث صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مجوزہ پریس کانفرنس میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیے جانے اور دیگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی ایک جامع سالانہ رپورٹ پیش کی جانی تھی۔ رپورٹ میں گزشتہ ایک برس کے دوران پیش آنے والے واقعات، مستند اعداد و شمار اور متاثرہ خاندانوں کی گواہیاں شامل ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق سندھ پولیس نے بی وائی سی کی مرکزی رہنماؤں سمی دین بلوچ، لالا وہاب بلوچ، فوزیہ بلوچ سمیت دیگر کارکنوں کو مختلف مقامات پر روک کر کراچی پریس کلب پہنچنے سے باز رکھا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز