شال (ہمگام نیوز) گزشتہ شب کوئٹہ کے علاقے بروری روڑ، بولان پلازہ سے قابض پاکستانی فورسز نے بلوچ کونسل ملتان کے سابق چیئرمین، رمیز جوہر ولد نواب، کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق، رمیز جوہر کا تعلق کمبرو آواران سے تھا اور وہ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں اردو ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم رہا تھا۔ اس نے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی اور یونیورسٹی کے دوران بلوچ کونسل (بی زیڈ یو) ملتان کا چیئرمین بھی رہا۔
یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد، رمیز جوہر نے کوئٹہ میں نوکری کے تیاری لیے رہائش اختیار کی تھی، قابض پاکستانی فورسز نے اسے گزشتہ رات حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی لہر تیز ہو چکی ہے، جس کے تحت متعدد طلبہ رہنما جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔


