تہران (ھمگام نیوز) اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔وہ جنگ جسے ایرانی رہنما اپنا وجودی معاملہ سمجھتے ہیں، اس وقت ان کے درمیان شدید کشیدگی پیدا کر رہی ہے۔سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑے ایک دوسرے کے متصادم ہو چکے ہیں،جبکہ سپریم لیڈر کی عدم موجودگی نے ان اختلافات کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔اسی وجہ سے داخلی تنازع نے ملک کے حکومتی ڈھانچے اور حکمت عملی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سخت گیر قدامت پسندوں اور نسبتاً عملی سوچ رکھنے والے دھڑوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔

ایران کی حکمران اشرافیہ کے اندر یہ اختلافات طویل عرصے تک سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مضبوط گرفت کے باعث دبے رہے، تاہم ایک ہفتہ قبل ان کی ہلاکت کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

مسلسل بمباری اسلامی جمہوریہ کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث اس کے سب سے طاقتور دھڑے پاسدارانِ انقلاب (انقلابی گارڈز) کو حکمتِ عملی میں مزید بڑا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ حالیہ کارروائیوں میں کئی اعلیٰ کمانڈرز بھی مارے جا چکے ہیں۔

ایرانی قیادت کے قریب ذرائع نے جو ملک کے اندر سے رائٹرز سے بات کر رہے تھے، بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد زندہ بچ جانے والے رہنماؤں کے درمیان تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

حساسیت کے باعث ان ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔نظام کے اندر بڑھتی کشیدگی کے اشارے کے طور پر علمائے کرام نئے سپریم لیڈر کے تقرر کے عمل کو تیز کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ اس بارے میں فیصلہ آج اتوار کو ہو جائے، تاہم یہ واضح نہیں کہ خامنہ ای کا جانشین مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کافی اختیار رکھے گا یا نہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے اور انہیں پاسدارانِ انقلاب اور اپنے والد کے بااثر دفتر کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم انہیں ابھی تک قیادت کے بڑے امتحان کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ ایران کے بیشتر سینئر رہنماؤں سے کم عمر ہیں، جس کی وجہ سے نظام کے اندر موجود اعتدال پسند حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب ممکنہ دیگر امیدواروں کے لیے بھی یہ چیلنج ہو سکتا ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کی مکمل وفاداری اور اطاعت برقرار رکھ سکیں، جو نظام کے اندر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

پزشکیان کے بیان پر پاسدارانِ انقلاب کا غصہ

خلیجی ممالک سے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے شدید حملوں پر مسعود پزشکیان کی معذرت اور آئندہ ایسے حملوں کو روکنے کے عزم نے پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر قدامت پسند مذہبی حلقوں میں فوری اور شدید ردِعمل پیدا کیا، جس کے بعد انہیں جزوی طور پر اپنے بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

پزشکیان پر ہونے والی واضح ترین تنقید میں سے ایک میں سخت گیر قدامت پسند رکنِ پارلیمنٹ اور عالمِ دین حمید رسائی نے سوشل میڈیا پر صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:آپ کا مؤقف غیر پیشہ ورانہ، کمزور اور ناقابلِ قبول ہے۔

یہ بیان ایرانی قیادت کے اندر بڑھتی تقسیم کی ایک علامت سمجھا جا رہا ہے۔بعد ازاں جب صدر نے سوشل میڈیا پر اپنا بیان دوبارہ شیئر کیا تو انہوں نے وہ معذرت حذف کر دی، جس پر پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سخت گیر حلقے برہم ہوئے تھے، جسے ایک شرمندہ کن پسپائی قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ قیادت کے تمام نمایاں افراد اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف اسلامی جمہوریہ اور اس کے انقلابی مذہبی نظام کا دفاع کیا جائے گا، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے حکمتِ عملی کے حوالے سے واضح اختلافات موجود ہیں۔

دو اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت ماضی میں بعض اوقات سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان اختلافات کو مغرب کے ساتھ مذاکرات میں ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے، تاہم ہفتے کے روز پزشکیان کے بیان پر ہونے والا تنازع حقیقی اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔

خامنہ ای کے دفتر کے قریب سمجھے جانے والے ایک سخت گیر قدامت پسند نے رائٹرز کو بتایا کہ پزشکیان کے تبصروں نے پاسدارانِ انقلاب کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کو سخت ناراض کر دیا۔

ایک اور اعلیٰ ایرانی ذریعے جو ماضی میں اعتدال پسند عہدیدار رہ چکے ہیں، نے کہا کہ کوئی بھی شخص آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتا۔ ان کے بقول مرحوم رہنما ایک نمایاں حکمتِ عملی ساز تھے، جنہوں نے ایران کو کئی مشکل ادوار میں رہنمائی فراہم کی۔

ادھر ایرانی قیادت میں بڑھتی بے چینی کے باعث سینئر علما نے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار مذہبی مجلس سے تقرری کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔

آیت اللہ نوری ہمدانی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اپنے بیان میں کہا:اس عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ دشمن کے عزائم ناکام ہوں اور قوم کی وحدت اور یکجہتی برقرار رہے۔

اعلیٰ قیادتی اداروں میں کشیدگی

ایران کے غیر معمولی سیاسی نظام میں منتخب صدر حکومت اور پارلیمان سپریم لیڈر کے تابع ہوتے ہیں۔ سپریم لیڈر کا تقرر مذہبی علما کرتے ہیں اور وہ وسیع اختیارات کے حامل ہوتے ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب اور دیگر طاقتور ریاستی ادارے براہِ راست ان کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

اقتدار میں 36 برس تک رہنے کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای اکثر حکمران نظام کے اندر سخت گیر قدامت پسندوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ تاہم آخری فیصلہ ہمیشہ انہی کا ہوتا تھا اور وہ مختلف دھڑوں کو اختلاف رائے ظاہر کرنے کی اجازت دیتے تھے، بشرطیکہ وہ ان کی اتھارٹی کو تسلیم کریں۔

ان کی ہلاکت کے بعد آئین کے مطابق قیادت عارضی طور پر ایک عبوری کونسل کو منتقل ہو گئی ہے جس میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ اور مجلسِ نگہبان سے وابستہ ایک عالمِ دین شامل ہیں۔

خامنہ ای کی عدم موجودگی میں اسی مضبوط سمجھی جانے والی قیادتی کونسل کے اندر بھی اختلافات کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔

عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ غلام حسین محسنی اژئی جو اپنے سخت مؤقف کے لیے معروف ہیں، نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک نے اپنے علاقوں کو حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اہداف پر سخت حملے جاری رہیں گے، جو صدر پزشکیان کے نسبتاً مفاہمانہ بیان سے متضاد مؤقف سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ خامنہ ای بعض مواقع پر اعتدال پسند یا اصلاح پسند آوازوں کو سخت گیر حلقوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنے دیتے تھے، لیکن جب بھی ایسا محسوس ہوتا کہ نظام کو خطرہ لا

حق ہے تو عموماً ان آراء کو مسترد کر دیا جاتا تھا۔