شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںصومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کا اسرائیل کو انتباہ، صومالی لینڈ...

صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کا اسرائیل کو انتباہ، صومالی لینڈ کے استعمال کی کسی بھی کوشش کے خلاف لڑنے کا اعلان

موغادیشو (ہمگام نیوز) صومالیہ سے وابستہ القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم الشباب نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ میں کسی بھی قسم کی موجودگی یا استعمال کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرے گی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے بیان میں کہا گیا:
“ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف لڑیں گے۔”

الشباب کے ترجمان علی دھیرے نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل نے “صومالی علاقوں میں اپنی توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے” تاکہ شمال مغربی علاقوں میں موجود “مرتد انتظامیہ” کی حمایت کی جا سکے۔

اگرچہ صومالی لینڈ میں الشباب کی موجودگی محدود ہے، تاہم یہ تنظیم گزشتہ 17 برسوں سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صومالی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف ہے۔ دارالحکومت موغادیشو میں سیکیورٹی کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن شہر سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے پر اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

گزشتہ سال الشباب کے ایک خودکش حملہ آور اور مسلح افراد نے موغادیشو کے ایک ساحل پر حملہ کر کے 32 افراد کو ہلاک کیا، جبکہ ایک کار بم دھماکے میں پانچ افراد جان سے گئے۔ اسی طرح ایک ہوٹل پر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں تین افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیل نے جمعے کے روز صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد وہ ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ صومالی لینڈ نے 1991 میں یکطرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد موغادیشو نے اسرائیلی اقدام کو اپنی خودمختاری پر “دانستہ حملہ” قرار دیا۔ مصر، ترکی، خلیجی تعاون کونسل (GCC)، اور سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے بھی اسرائیل کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

علاقائی ماہرین کے مطابق صومالی لینڈ کے ساتھ قریبی تعلقات اسرائیل کو بحیرہ احمر تک بہتر رسائی فراہم کر سکتے ہیں، جس سے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی نگرانی اور ممکنہ کارروائیاں آسان ہو سکتی ہیں۔

چند ماہ قبل بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صومالی لینڈ ان افریقی علاقوں میں شامل ہے جو غزہ کے کچھ فلسطینیوں کو آباد کرنے پر آمادہ تھے، تاہم صومالی لینڈ یا اسرائیلی حکام نے ان خبروں کی کبھی تصدیق نہیں کی۔

الشباب کے ترجمان علی دھیرے نے کہا:
“یہ انتہائی ذلت کی بات ہے کہ آج کچھ صومالی لوگ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے تسلیم کیے جانے پر خوشی منا رہے ہیں، جبکہ اسرائیل اسلامی معاشرے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔”

صومالی لینڈ کا رقبہ تقریباً فرانس کے ایک تہائی کے برابر ہے اور یہ سابق برطانوی صومالی لینڈ کے علاقے پر مشتمل ہے۔ اس کا اپنا کرنسی نظام، فوج اور پولیس موجود ہے اور یہ اپنے ہمسایہ علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً پُرامن سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اب تک کسی اور ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم برطانیہ، ایتھوپیا، ترکی، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، کینیا اور تائیوان سمیت کئی ممالک وہاں رابطہ دفاتر قائم کر چکے ہیں۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی حالیہ مہینوں میں صومالی لینڈ سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کے اشارے دیے تھے۔

اسرائیلی تسلیم کے بعد صومالی لینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ معاہدے 2020 میں امریکہ کی ثالثی سے طے پائے تھے، جن کے تحت اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، بعد ازاں مراکش بھی اس میں شامل ہوا۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے اکتوبر میں خفیہ طور پر اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے وزیراعظم نیتن یاہو، موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقاتیں کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے لیے دیگر ممالک کی تلاش میں تھا، تاہم عالمی ردِعمل کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

غزہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر تنہائی کا شکار اسرائیل نے افریقہ میں اپنے سفارتی تعلقات کو وسعت دینا ترجیح بنا لیا ہے، اور گزشتہ اگست میں اس نے 50 سال بعد زیمبیا میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز