اسلام آباد (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز (ڈی ایس ایس) ڈیپارٹمنٹ کے طالبعلم سعید بلوچ کو ریاستی خفیہ اداروں اور اسلام آباد پولیس نے 8 جولائی 2025 کے شام 7:30 بجے 26 نمبر ٹول پلازہ، راولپنڈی کے قریب سے جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ سعید بلوچ کو اس وقت جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد سے کوئٹہ جارہے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ واقعے کے بعد لیگل ٹیم کے ہمراہ گزشتہ شب پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی تاہم اسلام آباد پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے درخواست وصول کرنے سے بھی گریز کی۔ آج اس جبری گمشدگی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے اور قانونی سطح پر تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ سعید بلوچ کی جبری گمشدگی سے قبل خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک نوکری کے انٹرویو کے بہانے سعید بلوچ کی پروفائلنگ بھی کی تھی اور اس عمل میں انہیں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبران سمیت کلرک اور بوائز ہاسٹل کے وارڈن کیجانب سے باقاعدہ سہولت دی گئی تھی۔ ریاستی متعلقہ اداروں کیجانب سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اندر بلوچ طلبہ کی مسلسل پروفائلنگ اور مختلف طریقوں سے ہرسمنٹ کا ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں جو بلوچ طلبہ کو خوف کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے جوکہ انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد، ریاستی اداروں اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتی ہے کہ سعید بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور تمام تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کی نسلی بنیادوں پر پروفائلنگ اور ہرسمنٹ کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد اپنا حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔ جس کی تمام تر زمہ داری ریاستی اداروں اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن پر عائد ہوگی۔


